غزہ اور ایران جنگ کے بعد نوجوان امریکی ریپبلکنز اسرائیل سے بدظن ہونے لگے: رپورٹ


امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کی اسرائیل کیلئے روایتی حمایت میں دراڑیں نمایاں ہونے لگی ہیں، خصوصاً نوجوان ریپبلکنز کے رویے میں واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، جس سے یہ سوال جنم لے رہا ہے کہ آیا پارٹی کی دیرینہ اسرائیل نواز پالیسی اب بھی برقرار رہے گی۔ یہ بات اتوار کو نیوز ویب سائٹ ’Axios‘ نے اپنی رپورٹ میں کہی۔ یونیورسٹی آف میری لینڈ کے کریٹیکل ایشوز پول کے ڈائریکٹر و پروفیسر شیبلی تلہامی کے مطابق نوجوان ریپبلکنز میں یقیناً ایک بڑی تبدیلی جنم لے رہی ہے۔
غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی وسیع تباہی اور ایران جنگ کے خاتمے کے معاملے پر نیتن یاہو اور ٹرمپ ٹیم کے مابین اختلافات کے باعث ریپبلکن حمایت دباؤ کا شکار ہے۔ نیتن یاہو نے برسوں ڈیموکریٹس میں کم ہوتی حمایت کے توڑ کے طور پر ریپبلکنز سے قریبی تعلقات استوار کیے تھے، مگر اب خود قدامت پسند نوجوانوں میں اسرائیل کیلئے حمایت کمزور پڑتی نظر آ رہی ہے۔
اپریل میں پیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے مطابق ہر دس میں سے چار ریپبلکن اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں، جبکہ ۱۸ سے ۴۹ سال کی عمر کے ریپبلکنز میں یہ شرح ۵۷ فیصد تک پہنچ جاتی ہے (۵۰ سال سے زائد عمر والوں میں محض ۲۵ فیصد کے قریب)۔ کوئنیپیاک یونیورسٹی کے سروے کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک ریپبلکن نے امریکہ کو اسرائیل کی حد سے زیادہ حمایت کا ذمہ دار ٹھہرایا، جو ۷ اکتوبر کے حملوں کے بعد ریکارڈ شرح سے تین گنا زیادہ ہے۔ کریٹیکل ایشوز پول کے مطابق صرف ۴۶ فیصد ریپبلکنز نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو دفاعی طور پر جائز سمجھا، جبکہ ۱۸ سے ۳۴ سال کی عمر کے ریپبلکنز میں یہ شرح محض ۲۲ فیصد رہی۔ اس رجحان کو ٹکر کارلسن، میگن کیلی اور مارجوری ٹیلر گرین جیسی ’امریکہ فرسٹ‘ شخصیات کی تنقید سے مزید تقویت ملی ہے۔

متعلقہ پوسٹ