کالم نگار:محمد شہزاد بھٹی
پاکستان میں یکم جولائی 2026 سے نافذ ہونے والی نئی آٹو پالیسی ملکی آٹو سیکٹر میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے تحت درآمدی گاڑیوں پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں میں مرحلہ وار کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ مارکیٹ میں مقابلہ بڑھے اور صارفین کو بہتر معیار کی گاڑیاں مناسب قیمت پر مل سکیں۔ اس حکومتی اقدام کے بعد سے عوام کی نظریں ڈیلرز اور آٹو کمپنیوں پر مرکوز ہیں اور یہ اہم سوال گردش میں ہے کہ کیا یکم جولائی سے واقعی گاڑیاں سستی ہو جائیں گی یا شوروم مالکان پرانے مہنگے اسٹاک کا بہانہ بنا کر قیمتیں برقرار رکھیں گے، تاہم معاشی ماہرین کے مطابق اگر حکومت کی جانب سے دی گئی رعایت کا مکمل فائدہ صارفین تک منتقل کیا گیا تو آنے والے مہینوں میں گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے قوی امکانات ہیں۔ نئی پالیسی مقامی آٹو انڈسٹری کے لیے ایک کڑا امتحان ہے کیونکہ اب انہیں درآمدی جاپانی اور چینی گاڑیوں کے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کے نتیجے میں انہیں اپنے معیار، سیکیورٹی فیچرز، قیمتوں اور بعد از فروخت سروس کو ہر صورت بہتر بنانا ہوگا، کیونکہ ماضی میں صارفین کی جانب سے ناقص فنشنگ، "اون منی” کے کلچر اور طویل ڈیلیوری ٹائم جیسی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ ماضی میں ٹویوٹا وِٹز، پاسو، کرولا اور ایکوا جیسی جاپانی گاڑیوں کا پاکستان کی سڑکوں پر راج رہا ہے جن کی مقبولیت کی وجہ ان کا انجن، کم ایندھن کا خرچ اور بہترین ری سیل ویلیو تھی، اور اب اگر درآمدی پالیسی میں نرمی کا یہ سلسلہ برقرار رہا تو امکان ہے کہ ان درآمدی گاڑیوں کی تعداد میں دوبارہ اضافہ ہوگا، جو مقامی کمپنیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس نئی صورتحال میں حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ مارکیٹ پر سخت نگرانی رکھے تاکہ ڈیلرز مصنوعی قلت پیدا نہ کر سکیں اور صارفین کو نئی پالیسی کے ثمرات بلا تعطل مل سکیں۔ گاڑیوں کی صنعت کا فروغ نہ صرف براہِ راست سرمایہ کاری میں اضافے کا سبب بنے گا بلکہ تکنیکی مہارت کی منتقلی سے مقامی انجینئرنگ سیکٹر کو بھی تقویت ملے گی۔ ایک شفاف اور مسابقتی مارکیٹ ہی معیشت کے پہیے کو تیز تر کر سکتی ہے، جس سے نہ صرف انڈسٹری کو فائدہ ہوگا بلکہ عام آدمی کا سواری کا خواب بھی تعبیر پا سکے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے ملک کے معاشی حالات میں بہتری لائے، عوام کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے، اور ہمارے تاجروں اور صنعت کاروں کو دیانتداری اور ملک و قوم کی ترقی کے جذبے کے ساتھ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

