دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پارلیمنٹ مارچ نے بین الاقوامی انگریزی میڈیا میں نمایاں جگہ حاصل کی۔ متعدد عالمی اخبارات اور نشریاتی اداروں نے مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی، آنسو گیس کے استعمال، لاٹھی چارج اور قومی دارالحکومت کے مرکزی علاقوں میں انٹرنیٹ بند کیے جانے کو خاص طور پر اجاگر کیا۔ بین الاقوامی میڈیا نے اسے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف حالیہ برسوں کے سب سے بڑے اور نمایاں مظاہروں میں سے ایک قرار دیا، اور بعض اداروں نے اس کا موازنہ بنگلہ دیش و نیپال کے ’’جنریشن زی‘‘ احتجاجوں سے کیا جنہوں نے وہاں حکومتیں گرانے میں کردار ادا کیا تھا۔
نیویارک ٹائمز: دہلی کی سڑکوں پر ’’افراتفری کے مناظر‘‘ دیکھے گئے جبکہ پارلیمنٹ میں ’’مسکراتے ہوئے‘‘ مودی حالات کو معمول ظاہر کرتے رہے۔ اخبار کے مطابق حکومت نے نوجوانوں کی ناراضی کا درست اندازہ نہیں لگایا۔
بی بی سی: مظاہرین کے بڑے اجتماع اور پارلیمنٹ جانے والی سڑکوں کی ناکہ بندی کے درمیان تضاد کو اجاگر کیا۔ پولیس کارروائی میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے۔
فنانشل ٹائمز: یہ حالیہ برسوں کا دارالحکومت کا سب سے بڑا احتجاج قرار دیا اور کہا کہ اس نے مودی حکومت کے لیے وسیع تر سیاسی چیلنج پیدا کر دیا ہے۔
بلومبرگ: اسے 2021ء کی کسان تحریک کے بعد دہلی کا سب سے بڑا احتجاج قرار دیا، اور آئندہ اتر پردیش انتخابات کے تناظر میں اس کی اہمیت اجاگر کی۔
وال اسٹریٹ جرنل اور دی گارڈین: دونوں نے اسے مودی کو حالیہ برسوں کے سب سے بڑے احتجاجی چیلنجوں میں سے ایک قرار دیا۔ گارڈین کے مطابق اکثر مظاہرین طلبہ اور جین زی نوجوان تھے۔

