خامنہ ای کا افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے سے انکار، امریکی دباؤ مسترد

IMG 20260521 WA1975


تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے افزودہ یورینیم کو بیرون ملک منتقل کرنے کی کسی بھی تجویز کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ اگر افزودہ یورینیم ملک سے باہر بھیجا گیا تو ایران مستقبل میں امریکی ممکنہ فوجی کارروائیوں کے مقابلے میں انتہائی کمزور پوزیشن میں آجائے گا۔
ایرانی قیادت کے مطابق افزودہ یورینیم محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایران کی قومی سلامتی اور خودمختاری کا اہم ستون ہے۔ اسے ملک سے باہر منتقل کرنا دراصل ایران کو اپنے دفاعی ڈھانچے سے محروم کرنے کے مترادف ہوگا۔ خامنہ ای نے واضح کیا کہ جوہری پروگرام ایرانی عوام کا حق ہے اور اس پر کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاہدے کے حوالے سے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے تحت افزودہ یورینیم کے ذخائر کو تیسرے ملک منتقل کیا جائے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کے اس سخت مؤقف کے بعد جوہری مذاکرات مزید پیچیدہ ہوجائیں گے اور کسی حتمی معاہدے کا امکان فی الحال کم دکھائی دیتا ہے۔

متعلقہ پوسٹ