ایران پر مسلسل گیارہویں دن امریکی بمباری، جنگی اخراجات ۳۷ ارب ڈالر سے تجاوز


واشنگٹن/تہران — امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ مسلسل گیارہویں دن بھی جاری ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فوج نے ایک بار پھر ایران میں طیاروں کے ہینگرز اور ڈرون اسٹوریج مقامات کو نشانہ بنایا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں، اور خبردار کیا کہ یورینیم افزودگی کے مقامات کے قریب ایرانی علاقوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نطنز کے قریب زیرِ زمین جوہری تنصیب "پکیکس ماؤنٹین” پر حملے کی دھمکی بھی دی، جس پر ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسا حملہ "خطے میں جنگ کے دھماکے” کی صورت اختیار کر لے گا۔
وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ جنگی اخراجات ۵ء۳۷ ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ اب تک ۱۸ امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے، اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایرانی حملوں کو "ناقابلِ قبول” قرار دیا۔ ایران نے کویت میں امریکی فوجی مقامات اور تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں تاحال بےنتیجہ ہیں۔

متعلقہ پوسٹ