استنبول — برطانیہ کے ۱۲ سالہ آٹسٹک اور قوتِ گویائی سے محروم بچے جوشوا ہیرس نے ثابت کر دیا کہ محبت کا اظہار کرنے کے لیے الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اپنے والد ڈین ہیرس کے ہمراہ انہوں نے "Cake Not Hate” (نفرت نہیں، کیک) کے نام سے ایک مہم شروع کی، جس کا مقصد برطانیہ میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات کا جواب محبت، احترام اور انسانیت سے دینا ہے۔
اس مہم کے تحت جوشوا اپنے ہاتھوں سے کیک تیار کرتے ہیں اور مساجد میں جا کر نمازیوں میں تقسیم کرتے ہیں، بغیر ایک لفظ بولے یکجہتی کا پیغام دیتے ہیں۔ ان کے والد کے مطابق یہ مہم کسی سیاسی مقصد کے تحت نہیں بلکہ انسانوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے شروع کی گئی تھی۔
جو مہم برطانیہ کی چند مساجد سے شروع ہوئی تھی، اب عالمی سطح پر پھیل چکی ہے۔ جوشوا اور ان کے والد اب تک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کر چکے ہیں، اور حالیہ دنوں میں انہوں نے استنبول کی متعدد تاریخی مساجد کا دورہ کیا، جہاں نمازیوں میں کیک تقسیم کیے۔
ٹی آر ٹی ورلڈ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈین ہیرس نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے یہ مہم اس وقت شروع کی جب برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز واقعات میں اضافہ دیکھا گیا۔ جوشوا کی کہانی سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد کو متاثر کر چکی ہے، اور اسے انسانیت و بین المذاہب ہم آہنگی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ جوشوا اور ان کے والد خود مسلمان نہیں ہیں۔

