یوم آزادی: ذرا سوچیے! – ایکسپریس اردو

2720842 mjgohar 1728414445


آج سے آٹھ دہائیاں قبل بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی جان، مال، عزت و آبرو کی قربانیاں دے کر ایک آزاد وطن پاکستان حاصل کیا تھا۔ پاکستان دنیا کی واحد ریاست ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوئی جس کی بنیاد دو قومی نظریہ تھا۔ اس کی بنیاد کا اندازہ بانی پاکستان کے اس خطاب سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جو انھوں نے 8 مارچ 1944 کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں طلبا کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آپ نے فرمایا کہ ’’پاکستان اسی دن معرض وجود میں آ گیا تھا، جب ہندوستان میں پہلا غیر مسلم مسلمان ہوا تھا۔‘‘ بعینہ 17 نومبر 1945 کو قائد اعظم نے ایڈورڈ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’ہم دونوں قوموں (ہندو اور مسلمان) میں صرف مذہب کا فرق نہیں ہے بلکہ ہمارا کلچر بھی ایک دوسرے سے الگ ہے۔ ہمارا دین ہمیں ایک ضابطہ حیات دیتا ہے، جو زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے اور ہم اس ضابطے کی بنیاد پر اپنی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

مصور پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے دو قومی نظریے کو فکری اور سیاسی عملیت پسندی کے ساتھ روشناس کرایا۔ دسمبر 1930 میں خطبہ الٰہ آباد میں علامہ نے واضح طور پر کہا کہ برصغیر کے مسلمان ایک الگ تہذیبی اور مذہبی تشخص رکھتے ہیں لہٰذا پنجاب، سندھ، بلوچستان اور سرحد کو ملا کر ایک آزاد خودمختار مسلم ریاست بنائی جائے۔ قائد اعظم علامہ اقبال کے سیاسی فکر و فلسفے کے بڑے حامی تھے۔ انھوں نے علامہ کی فکر کو آگے بڑھایا اور برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد و خودمختار وطن 14 اگست 1947 کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

قائد اعظم نے 15 اگست 1947 کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ایک نئی ریاست کے قیام نے پاکستان کے لوگوں کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ دنیا کو دکھائیں کہ کس طرح ایک قوم جو مختلف عناصر پر مشتمل ہو، امن اور محبت کے ساتھ رہ سکتی ہے اور ذات یا مذہب کی تفریق کے بغیر اپنے تمام شہریوں کی بہتری کے لیے متحد ہو کر کام کر سکتی ہے۔

پاکستان کو قائم ہوئے 79 برس بیت چکے ہیں۔ ہم ہر سال آزادی کا جشن مناتے ہیں، ہمارے سیاسی قائدین اور حکومتی اکابرین کہ جن کے پاس تمام تر اختیارات، طاقت اور قومی وسائل کے استعمال پر قدرت رکھنے، یوم آزادی کے موقع پر اپنے بیانات، پیغامات اور تقریروں میں بڑی شد و مد کے ساتھ بانی پاکستان قائد اعظم اور مصور پاکستان علامہ اقبال کے فکر و فلسفے کا تذکرہ کرتے ہیں۔ پاکستان کو علامہ اور قائد اعظم کے خوابوں کی تعبیر کے مطابق بنانے کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن افسوس کہ ان کے عمل کا خانہ خالی ہے۔ آپ 79 برس کے سفر پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ دو قومی نظریے اور دین اسلام کے نام پر قائم ہونے والے وطن پاکستان میں نہ ایک متحد و منظم قوم نظر آتی ہے اور نہ ہی اسلام کے آفاقی پیغام کی کہیں کوئی جھلک نظر آتی ہے۔ 24 کروڑ عوام صوبائیت، لسانیت اور عصبیت کے قانون میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اسلام صرف مدرسوں، مکتبوں اور درسی کتابوں تک محدود ہو گیا ہے۔

ہمارے اکابرین سیاست نے ایسے ایسے کارنامے انجام دیے کہ قائد اعظم کے سنہری اصول ایمان، اتحاد، تنظیم کا پیغام صرف بیانات اور پیغامات تک محدود ہو کر رہ گیا۔ قائد اعظم آئین و قانون کی حکمرانی کے قائل تھے لیکن ان کے پاکستان میں 79 برس میں آئین و قانون کے ساتھ وہ کھلواڑ کیا گیا کہ الحفیظ والامان! نتیجتاً ملک دولخت ہو گیا جس پر بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے پھبتی کسی کہ ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا۔ سقوط ڈھاکہ کے ناسور سے آج بھی لہو رس رہا ہے۔

ہمارے اکابرین نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ آج کے پاکستان میں نفرتوں کی چنگاریاں سلگ رہی ہیں۔ بلوچستان اور کے پی کے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں۔ معیشت اربوں ڈالر کے قرضوں میں جکڑی ہوئی ہے۔ غربت، مہنگائی، بے روزگاری، پسماندگی، جہالت اور آئینی حقوق کی پامالی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔۔ کیا یہی ’’سوغات‘‘ 79 برس کے سفر کا حاصل ہے؟ کیا علامہ اقبال نے ایسے ہی پاکستان کا خواب دیکھا تھا؟ کیا قائد اعظم نے ایسے ہی پاکستان کے لیے جدوجہد کی تھی؟ کیا برصغیر کے مسلمانوں نے ایسے ہی پاکستان کے حصول کے لیے اپنی جان، مال، عزت و آبرو کی قربانیاں دی تھیں؟ ذرا سوچیے!





Source link

متعلقہ پوسٹ