پوپ لیو نے مغربی کنارے میں آبادکاروں کا تشدد روکنے ، دو ریاستی حل کی طرف بڑھنےکا مطالبہ کر دیا

news 1786887960 7452



news 1786887960 7452

(ویب ڈیسک)  پوپ لیو  نے فلسطین کے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں اور فوج کے تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا۔ پوپ لیو کا یہ مطالبہ  انتہا پسند آباد کاروں کے حملوں میں اضافے کے درمیان آیا ہے۔

ویٹیکن میں اپنے ویکلی خطاب مین پوپ لیو نے کہا  "میں مغربی کنارے میں فلسطینی شہری آبادی کے خلاف مسلسل تشدد کے خاتمے کے لیے اپنی اپیل کی تجدید کرتا ہوں،” 

وپ نے  کسی مخصوص تصادم یا حملوں کا ذکر کیے بغیر  یہ کہا، "میں بین الاقوامی برادری سے فوری طور پر ایکشن لینے کے لیے کہتا ہوں تاکہ منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے دو ریاستی حل کو آگے بڑھایا جا سکے،”

 پوپ نے روم کے باہر کیسٹیل گینڈولفو  کی رہائش گاہ پر دوپہر کی نماز کے بعد  یہ جو  بہت اہم بیان دیا ہےاس کا تناظر یہ بتایا جا رہا ہے کہ مغربی کنارے کے واحد مسیحی گاؤں طیبہ کے رہائشیوں نے کمیونٹی کے ارکان کو دھمکیاں دینے والے آبادکاروں کے حملوں کے درمیان پوپ لیو سے مداخلت اور مدد کرنے کی اپیل کی تھی۔

مغربی کنارے میں آبادکاروں میں انتہا پسندی کا بڑھتا رجحان

گزشتہ کئی مہینوں کے دوران مغربی کنارے میں آبادکاروں میں انتہا پسندی کی نیہ لہر دیکھی جا رہی ہے جس کا تعلق اسرائیل کے اندر انتہا پسندی کے عمومی ابھار سے جوڑا جا رہا ہے۔

پوپ کی دو ریاستی حل کی طرف بڑھنے کی اپیل

آج روم میں پوپ لیو نے کسی مخصوص تصادم یا حملوں کا ذکر کیے بغیر کہا، "میں مغربی کنارے میں فلسطینی شہری آبادی کے خلاف بار بار تشدد کے خاتمے کے لیے اپنی اپیل کی تجدید کرتا ہوں۔”

"میں بین الاقوامی برادری سے فوری طور پر ایکشن لینے کے لیے کہتا ہوں تاکہ منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے دو ریاستی حل کو آگے بڑھایا جا سکے،” پوپ نے روم کے باہر کیسٹیل گینڈولفو کی رہائش گاہ پر دوپہر کی نماز کے بعد مزید کہا۔

ویٹیکن نے طویل عرصے سے مستقبل کی فلسطینی ریاست کے عرصہ سے تعطل کا شکار منصوبے  کی حمایت کی ہے، جسے اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 150 سے زیادہ نےتسلیم کر رکھا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی دائیں بازو کی اتحادی حکومت نے مغربی کنارے میں بڑے پیمانے پر بستیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے جس کے بارے میں نیتن یاہو کے وزیر خزانہ بیزیل سموٹریچ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد الگ فلسطینی ریاست کے تصور کو دفن کرنا ہے۔

اقوام متحدہ اور زیادہ تر حکومتیں فوجی قبضے سے متعلق بین الاقوامی قانون کے تحت  فلسطین کے اندر یہودیوں کی نئی بستیوں کو غیر قانونی تصور کرتی ہیں لیکن نیتن یاہو اور ان کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادی ان بستیوں کی حوصلہ افزائی کو اسرائیل کی داخلی سیاست میں اپنی تباہ ہوتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کے شارٹ کٹ کے طور پر ایکسپلائیٹ کر رہے ہیں۔ اسرائیل میں پارلیمنٹ مقررہ مدت پوری کر کے تحلیل ہو  چکی ہے اور نئے الیکشن کا اعلان  ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

دریائے اردن کا مغربی کنارہ فلسطین ہے، پرائم منسٹر اضحاک رابین نے تسلیم کیا تھا

اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں مغربی کنارے پر قبضہ کیا تھا ۔ اسرائیل کے اندر انتہا پسندوں کا مؤقف ہے کہ یہ علاقہ مقبوضہ ہونے کی بجائے متنازعہ ہے۔  لیکن اسرائیل کے سابق وزیر اعظم اضحاک رابین نے   1993 اور  1995 کے اوسلو ایکارڈز میں مغربی کنارے کو مجوزہ فلسطینی ریاست کا حصہ تسلیم کیا تھا۔  اسرائیل میں شدید سیاسی تصادم کے باوجود اسرائیلیوں کی اکثریت مغربی کنارے کو بدستور  فلسطین کی ریاست کا حصہ مانتی ہے جسے مکمل خود مخیاری ملنا باقی ہے۔ سردست اوسلو ایکارڈ کے تحت تشکیل پانے والی سکیم کے مطابق مغربی کنارے کے کچھ علاقے  ایریا اے میں شامل ہیں جن میں رام اللہ بھی ہے، یہ علاقے فلسطینی اتھارٹی کے کنٹرول میں ہیں، بیس فیصد کے لگ بھگ علاقہ ایریا بی ہیں جہاں فلسطینی اتھارٹی کا جزوی کنٹرول ہے اور ساٹھ فیصد علاقے ایریا سی ہیں جہاں اسرائیلی فوج کا کنترول نسبتاً زیاد ہواضح اور ہمہ گیر ہے۔

یاسر عرفات نے  2988 میں مغربی کنارے کو  فلسطین کا حصہ ڈیکلئیر کیا تھا

تاریخی طور پر، 15 نومبر 1988ء کو الجزائر میں پی ایل او (PLO) نے پہلی بار آزاد فلسطینی ریاست کا اعلان کیا جس میں مغربی کنارہ اور غزہ شامل تھے۔ اس کے بعد سب سے بڑی پیش رفت 29 نومبر 2012ء کو ہوئی جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے فلسطین کو "غیر رکن مبصر ریاست” (Non-member Observer State) کا درجہ دیا۔ اس فیصلے کے تحت بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے نقشے پر مغربی کنارے (بشمول مشرقی یروشلم) اور غزہ کی پٹی کو فلسطینی ریاست کے مقبوضہ علاقے کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اب تک دنیا کے تقریباً 150 سے زائد ممالک فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:  ہیبرون میں فلسطینی گاؤں پر آبادکاروں کا حملہ، پانچ فلسطینی زخمی 





Source link

متعلقہ پوسٹ