سابق ماؤ نواز خواتین نے کہا، ’دھوکے سے کرایا گیا ریمپ واک‘

Ramp walk


چھتیس گڑھ کے رائے پور میں نیشنل ہینڈ لوم ڈے کے موقع پر ہوئے ایک فیشن شو میں سابق ماؤ نواز خواتین نے ریمپ واک میں حصہ لیا تھا۔ حکومت اسے اپنی حصولیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے، لیکن سابق ماؤ نواز خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں سلائی کی ٹریننگ کے نام پر دھوکے سے سکما سے رائے پور لے جایا گیا اور وہاں ریمپ واک کی ٹریننگ دے کر اس پروگرام میں شامل کروایا گیا۔

Ramp walk

نیشنل ہینڈ لوم ڈے کے موقع پر چھتیس گڑھ حکومت کی جانب سے منعقد ایک فیشن شو میں ریمپ واک کرتی ہوئی سابق ماؤ نواز خواتین۔ (تصویر بہ شکریہ: فیس بک)

نئی دہلی:گزشتہ 7 اگست کو رائے پور میں اختتام پذیر ہوئے ایک پروگرام کی خبر تقریباً ایک ہفتے بعد وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کی وجہ سے اب سرخیاں  حاصل کر رہی ہے۔ نیشنل ہینڈ لوم ڈے کے موقع پر سودیسی کپڑوں کو فروغ دینے کے مقصد سے چھتیس گڑھ حکومت نے یہ پروگرام منعقد کیا تھا، جس میں ایک فیشن شو بھی رکھا گیا تھا۔

اس فیشن شو میں ریمپ واک کرنے والی خواتین کوئی عام خواتین نہیں تھیں، بلکہ چند ماہ قبل تک ہاتھوں میں بندوق لے کر جنگلوں میں گھومنے والے ماؤ نواز گوریلا دستوں کی ممبر تھیں۔ اس لیے ان کی ریمپ واک پر اتنی زیادہ باتیں ہو رہی ہیں اور حکومت اسے اپنی حصولیابی اور ’امپاورمنٹ‘ کی مثال کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

وزیراعلیٰ وشنو دیو سائے نے اس پروگرام کی تصویریں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے کہا، ’بستر میں ایک نیا باب شروع ہو رہا ہے… جن ہاتھوں میں کبھی ہتھیار ہوتے تھے، وہ آج عزت، خود اعتمادی اور امید کی نئی کہانی بُن رہے ہیں۔‘

تاہم، دی وائر سے بات چیت میں ریمپ واک میں شامل چار سابق ماؤ نواز خواتین نے کہا کہ انہیں سلائی کی تربیت کے نام پر دھوکے سے سکما سے رائے پور لے جایا گیا تھا۔ وہاں پہنچنے کے بعد انہیں ریمپ واک کی تربیت دی گئی۔ ایک خاتون نے کہا، ’اگر پہلے سے پتہ  ہوتا تو میں نہیں جاتی۔‘

سکما پنرواس کیندر میں کام کرنے والی خاتون پولیس اہلکار سیما پویام نے بھی تصدیق کی کہ خواتین کو ریمپ واک کے بارے میں پہلے سے کوئی اطلاع نہیں تھی۔ ان کے مطابق، انہیں بتایا گیا تھا کہ خواتین کو سلائی سے متعلق تربیت کے لیے لے جایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب، محکمہ دیہی صنعت کے سکما انچارج سکریٹری راجیش سنگھ رانا کا کہنا ہے کہ خواتین کی پروگرام میں شرکت ان کی رضامندی سے ہوئی تھی اور ضلع کلکٹر کی جانب سے اس کے لیے رضامندی کے خطوط بھی موصول ہوئے تھے۔

واضح ہو کہ محکمہ دیہی صنعت نے رائے پور کے دین دیال اپادھیائے آڈیٹوریم میں یہ پروگرام منعقد کیا تھا، جس میں ان خواتین کو کوسا سلک اور روایتی ہتھ کرگھا کے ملبوسات پہنا کر، چہروں پر میک اپ کر کے ریمپ واک کروایا گیا۔ اس پروگرام میں چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ وشنو دیو سائے اور سابق وزیراعلیٰ رمن سنگھ بھی بطور مہمان موجود تھے۔

ہمیں سلائی کا کام سکھانے کے بہانے لے گئے تھے

اس ریمپ واک میں حصہ لینے والی کچھ سابق ماؤ نواز خواتین سے دی وائر  نے رابطہ کیا۔ ان میں سے چار خواتین نے تصدیق کی کہ ریمپ واک میں سکما ضلع سے مجموعی طور پر 10 خواتین نے حصہ لیا۔ ان میں سے 9 خواتین ماؤ نواز تھیں، جو ہتھیار ڈالنے کے بعد گزشتہ چند ماہ سے سکما میں پولیس کے زیر انتظام ’ بحالی مرکز (پنرواس کیندر)‘ میں رہ رہی ہیں، جبکہ ایک خاتون خود پولیس اہلکار ہے جوکبھی ماؤ نواز نہیں تھیں۔

ان 9 خواتین نے گزشتہ ایک سال کے دوران مختلف اوقات میں چھتیس گڑھ اور تلنگانہ پولیس کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے۔

نام اور شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان سابق ماؤ نواز خواتین نے دی وائر کو بتایا کہ انہیں جگدل پور میں سلائی کی تربیت دلوانے کی بات کہہ کر سکما سے لے جایا گیا تھا، لیکن انہیں جگدل پور کے بجائے رائے پور لے جایا گیا۔ 11 لوگوں کے ان کے گروپ میں دو پولیس اہلکار بھی تھیں، جن میں سے ایک نے ریمپ واک میں حصہ لیا۔

وہ 1 اگست کی شام وہاں پہنچیں، جس کے بعد انہیں رائے پور کے ایک ہوٹل میں ٹھہرایا گیا اور 2 سے 6 اگست تک ریمپ واک کی تربیت دی گئی۔ ممبئی سے آئے کچھ لوگوں نے انہیں یہ تربیت دی۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ ریمپ واک کیا ہے اور یہ کیسے اور کیوں ہوتا ہے، جس کے بارے میں انہیں پہلے بالکل علم نہیں تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وہ اس بات پر حیران تھیں کہ سلائی کی تربیت کے بجائے انہیں ریمپ واک کی تربیت کیوں دی جا رہی تھی۔

Ramp walk

نیشنل ہینڈ لوم ڈے کے موقع پر چھتیس گڑھ حکومت کی جانب سے منعقد کیے گئے ایک فیشن شو میں سابق ماؤ نواز خواتین ریمپ واک کرتی ہوئی۔ (تصویر: سوشل میڈیا)

ان میں سے ایک خاتون نے بتایا، ’ہمیں یہ کہہ کر لے گئے تھے کہ سلائی کا کام سکھایا جائے گا۔ وہاں جانے کے بعد سلائی مشین کی تربیت دینے کے بجائے ہمیں چلنے کی ٹریننگ دینے لگے۔ پہلے تو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آیا۔ بڑی مشکل سے تھوڑا بہت سیکھا اور اسٹیج پر دکھایا۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’مجھے وہاں ریمپ واک نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اب بالکل  بھی اچھا نہیں لگ رہا۔ اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا تو میں وہاں نہیں جاتی۔‘

اسی لہجے میں  ایک اور خاتون نے کہا، ’اگر ہمیں بتایا جاتا کہ فیشن شو میں حصہ لینے کے لیے لے جایا جا رہا ہے تو ہم جانے سے انکار کر دیتے۔ لیکن تربیت کے نام پر لے گئے تھے۔ ہم نے تو سوچا تھا کہ کچھ نیا سیکھ لیں گے، جو ہمارے کام آئے گا۔ ‘

ایک اور خاتون نے بتایا، ’وہاں جس ہوٹل میں ہمیں ٹھہرایا گیا تھا، وہاں ممبئی سے کچھ لوگ آئے تھے۔ ہم نے ان سے انکار بھی کیا، لیکن انہوں نے ہم پر دباؤ ڈالا۔ ہمیں صحیح طریقے سے کرنا نہیں آتا تھا۔ وہ ہمیں ڈانٹ ڈپٹ کر سکھاتے تھے۔ ‘

غور طلب  ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی ٹھیک سے ہندی  نہیں آتی۔ وہ صرف کام چلانے لائق اور ٹوٹی پھوٹی ہندی بول پاتی ہیں۔ اسی لیے دی وائر سے ان کی مکمل بات چیت گونڈی/کویا زبان میں ہوئی۔ ان سب سے الگ الگ بات کرنے پر بھی ایک بات سب نے واضح طور پر دہرائی کہ انہیں دھوکے سے وہاں لے جایا گیا تھا۔ ان کی اپنی زبان اور الفاظ میں اسے یوں کہا جائے تو: ’ماکن گتی کیسی اوتور۔ ‘

سابق ماؤ نواز کیڈروں کی باتوں کی تصدیق خاتون پولیس اہلکار سیما پویام نے بھی کی، جو سکما کے بحالی مرکز میں کام کرتی ہیں۔ ان خواتین کو رائے پور لے جانے سے لے کر ریمپ واک کے بعد واپس سکما لانے تک سیما ان کے ساتھ ہی رہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ انہیں ان خواتین کو رائے پور لے جانے کے لیے اوپر سے حکم ملا تھا، اس لیے وہ انہیں لے کر گئیں۔ انہیں بھی معلوم نہیں تھا کہ وہاں کیا ہونے والا  تھا۔

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ سابق ماؤ نواز خواتین کو بھی معلوم نہیں تھا کہ انہیں وہاں ریمپ واک کرنا ہوگا۔ ’انہیں صرف اتنا بتایا گیا تھا کہ سلائی سے متعلق کسی تربیت کے لیے لے جایا جا رہا ہے۔‘

ایک پیسہ بھی نہیں ملا، صرف ایک جھولا دیا

جب دی وائر نے ان سابق ماؤ نواز خواتین سے پوچھا کہ وہاں پرفارم کرنے کے لیےانہیں معاوضے کے طور پر کیا ملا، تو سب نے یہی کہا، ’کچھ نہیں دیا گیا۔ صرف ایک جھولا دیا گیا، جس میں ایک ساڑی تھی۔‘

دی وائر نے گرام ادیوگ محکمہ کے سکما کے انچارج سکریٹری راجیش سنگھ رانا سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ریمپ واک میں حصہ لینے والی تمام خواتین کو فی خاتون دس، دس ہزار روپے دیے گئے۔ انہیں نقد رقم دینے کے بجائے رقم ان کے بینک اکاؤنٹ میں بھیجی گئی۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ تحفے کے طور پر انہیں ہینڈلوم سے تیار کردہ کھادی اور ریشم کے کپڑے دیے گئے تھے۔

جب اس کی تصدیق کے لیے خواتین سے دوبارہ پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ابھی تک ان کے بینک اکاؤنٹ میں کوئی رقم نہیں آئی ہے۔ تحفے میں صرف ایک سوتی ساڑی دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ایک ٹریک سوٹ بھی دیا گیا تھا۔

Ramp walk.JPG

نیشنل ہینڈ لوم ڈے کے موقع پر چھتیس گڑھ حکومت کی جانب سے منعقد کیے گئے ایک فیشن شو میں سابق ماؤ نواز خواتین۔ (تصویر: فیس بک)

جب میڈیا میں اس خبر کے وائرل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا گیا کہ انہیں یہ سب کیسا لگ رہا ہے، تو ایک خاتون نے کہا، ’دھوکے سے لے جا کر ہم سے یہ سب کروایا گیا تو کیسے اچھا لگے گا۔‘


انہوں نے میڈیا کی جانب سے مسلسل رابطہ کیے جانے پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔ ’جب سے یہ پروگرام ہوا ہے، مسلسل میڈیا والے آ کر ہم سے اس بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ ہم کیا ہی بتائیں گے؟ ہم اپنی مرضی سے تھوڑی نہ گئے تھے۔ ہمیں جھوٹ بتا کر لے جایا گیا تھا۔ ‘


دی وائر نے اس بارے میں گرام ادیوگ محکمہ کے سکما کے انچارج سکریٹری راجیش سنگھ رانا سے بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ان خواتین سے ان کی ملاقات سکما کے نکسل بحالی مرکز میں ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا، ’ان کے ساتھ بات چیت ہوئی تھی کہ وہ کیا کیا روزگار کر رہی ہیں، انہیں کیا کیا سہولتیں مل رہی ہیں، وہ کیا بننا چاہتی ہیں اور مستقبل میں کیا کرنا چاہتی ہیں۔ بات چیت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کچھ  اس (ریمپ واک) میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ کچھ لڑکیاں بہت پراعتماد تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ انہیں بھی اسٹیج ملے۔ نیشنل ہینڈ لوم ڈے  پر ہمارا پروگرام تھا، تو ہم نے انہیں بھی اس میں شامل کر لیا۔‘

جب دی وائر نے ان سے پوچھا کہ کیا اس پروگرام میں ریمپ واک کرانے کا آئیڈیا پہلے سے شامل تھا؟ اس پر انہوں نے کہا،’یہ پہلے سے طے نہیں تھا۔ ہینڈلوم ڈے کے موقع پر سو دیسی کپڑوں، جیسے کھادی، کوسا سلک اور سوتی کپڑوں کی تشہیر کرنا تھی۔ بعد میں، ان خواتین میں جو اعتماد نظر آیا، اسے دیکھتے ہوئے لگا کہ انہیں بھی اس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان خواتین کو سلائی مشین کی تربیت کے نام پر وہاں لے جایا گیا تھا، تو رانا نے بتایا کہ ضلع کلکٹر کی جانب سے رضامندی کے خطوط موصول ہوئے تھے، جن میں کہا گیا تھا کہ یہ خواتین اس پروگرام میں شرکت کی خواہش مند ہیں۔

اس ریمپ واک کے حوالے سے دی وائر کو کچھ مبینہ رضامندی کے خطوط بھی ملے ہیں، جن میں ’دیسی فیشن شو/نمائش‘ میں شرکت کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کچھ لوگوں کے نام، تصویر، دستخط وغیرہ موجود تھے۔ اس بارے میں جب دی وائر نے ایک سابق ماؤ نواز خاتون سے پوچھا تو انہوں نے کہا، ’اس میں ہندی میں کیا کیا لکھا تھا، ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ افسران نے دستخط کرنے کو کہا تو ہم نے کر دیے۔‘

ریمپ واک کروا کر خوش ہونا مذاق ہے: بیلا بھاٹیہ

دی وائر سے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے سماجی کارکن اور وکیل بیلا بھاٹیہ نے کہا کہ بستر کی خواتین، اور وہ بھی ماؤ نواز پس منظر سے آنے والی خواتین کو اس طرح فیشن شو میں پیش کرنا ایک بھونڈا مذاق ہے۔

انہوں نے کہا، ’یہاں کے لوگ بھوک سے لڑ رہے ہیں، بے روزگاری سے لڑ رہے ہیں۔ طرح طرح کے استحصال کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے وسائل کے استحصال کے لیے تمام قوانین توڑے جا رہے ہیں۔ ان کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔ انہی کے حقوق کو کچلے جانے کی وجہ سے ماؤ ازم پیدا ہوا تھا۔ اگرچہ آج حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ اس نے ماؤ ازم ختم کر دیا ہے، لیکن معاشرے کو اب تک یہ جواب نہیں دیا گیا کہ آخر ماؤ ازم شروع ہی کیوں ہوا تھا۔ اور اس میں بستر کے لوگ، خصوصی طور پر خواتین، زیادہ تعداد میں کیوں شامل ہوئی تھیں؟ وہ کیوں شامل ہوئی تھیں؟ انہوں نے ہتھیار تک کیوں اٹھائے؟ ان تمام باتوں کو چھپا کر ان خواتین کو ریمپ واک کرتے ہوئے دکھا کر خوش ہونا محض ایک مذاق ہے۔‘

انہوں نے کہا،’خواتین کو ریمپ واک میں شامل کرنے کا مطلب ہے کہ ان کے جسم کو نام نہاد خوبصورتی کے ایک مخصوص سانچے میں ڈھالنا۔ یہ پدرسری سوچ کا نتیجہ ہے کہ ایک وقت میں بندوق اٹھانے والی، سیاسی مسائل اٹھانے والی عورتوں کو خوبصورتی اور آرائش کے دائرے میں لا کر اسے ان کو بااختیار بنانے کی سمت میں ایک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر وہ لوگ پھولن دیوی کو بھی اسی طرح قید کر کے ریمپ پر چلواتے، تو کیا یہ حقیقت بدل جاتی کہ ان کے ساتھ کس طرح زیادتی کی گئی تھی؟ کیا اس سے ان کے معاشرے کی خواتین جن سماجی استحصال کا شکار ہو رہی ہیں، وہ بدل جاتا؟‘

بیلا مزید کہتی ہیں،’ان خواتین کو ریمپ پر تو 10 سے 15 منٹ چلوایا گیا، لیکن حکومت نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی ہوگی کہ انہوں نے کن حالات میں ہتھیار اٹھائے۔ وہ برسوں تک جنگلوں میں کیوں چلتی رہیں؟ بہت سے لوگ اس راستے میں مارے بھی گئے، پھر انہوں نے یہ راستہ کیوں اختیار کیا؟‘

’مرکزی دھارے‘ میں لانے کے معاملے پر بیلا نے کہا، ’یہ سب لوگ حاشیے پر رہنے والے لوگ تھے۔ انہوں نے یہ سوچ کر ہتھیار اٹھائے تھے کہ اپنے حقوق کے لیے لڑیں گے، کیونکہ اس جمہوریت میں ان کے حقوق پامال ہو رہے تھے۔ آج انہوں نے ہتھیار چھوڑ دیے ہیں، لیکن حقوق کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ کیونکہ آبادی کی اکثریت اب بھی حاشیے پر ہے۔ یہ لوگ مرکزی دھارے میں نہیں ہیں۔ جن لوگوں کی ضروریات پوری ہو رہی ہیں، وہی مین اسٹریم میں ہیں۔ اس لیے حکومت سے پوچھنا پڑے گا کہ جن لوگوں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں، انہیں مین اسٹریم میں کب لایا جائے گا؟‘ حاشیے پر کھڑے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سب لوگوں کو آگے آنا چاہیے۔ سب کو ان کے لیے لڑنا چاہیے۔‘

سابق ماؤنوازوں کی بازآبادکاری اور بحالی

’مرکزی دھارے‘ میں لوٹی سابق نکسلی خواتین کے ریمپ واک کو حکومت ان کی بحالی اور بااختیار بنانے کی کوشش کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ لیکن سوال اٹھ رہے ہیں کہ کئی دہائیوں سے جاری تشدد کے اس سائیکل سے باہر نکلنے والی ان خواتین کی بحالی کی علامت ریمپ واک کیسے ہو سکتا ہے؟

انہیں اسٹیج پر لا کر، ان کی قبائلی ثقافت اور طرززندگی سے کسی بھی طرح مطابقت نہ رکھنے والے ماحول میں، ایسی شہری اور غیر قبائلی ناظرین کے سامنے جو نامانوس زبانیں بولتے ہیں، ان سے ایسی حرکات اور انداز میں چلوا کر جو ان کے لیے بالکل اجنبی اور غیر آرام دہ ہوں، اور پھر ان کی تصویریں اور ویڈیو بنوا کر انہیں وائرل کر دینا آخر کہاں تک مناسب ہے؟

ان کی خواہش کیا ہے، ان کا مؤقف کیا ہے، ان کی مجبوریاں کیا ہیں،جانے یا سنے بغیر ہی ان کی طرف سے یہ اعلان کر دینا کہ یہ ان کی ’مین اسٹریم میں واپسی‘ کی کامیابی کی علامت ہے، کیا یہ جائز ہے؟

بستر ڈویژن کے مختلف اضلاع کے بازآبادکاری مراکز میں رہنے والے سابق ماؤ نوازوں کو جب اپنی آئندہ زندگی اور روزگار کے بارے میں آزادانہ طور پر فیصلہ لینے کا موقع ہی حاصل نہیں ہے، تو اس ریمپ واک کو ان کے بااختیار بنانے کی سمت  میں ایک قدم قرار دینا کیا مضحکہ خیز نہیں ہے؟

سکما کے بازآبادکاری مرکز میں رہنے والی کچھ سابق ماؤ نواز خواتین نے دی وائر کو یہ بھی بتایا کہ انہیں کئی پابندیوں کے درمیان، سکیورٹی اہلکاروں کی نگرانی میں زندگی گزارنی پڑ رہی ہے۔ انہیں اپنی مرضی سے کہیں آنے جانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ قبائلی لوگ اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک جگہ بندھے رہنا پسند نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہنرمندبنانے کی بات تو ہو رہی ہے، لیکن ابھی تک انہیں کوئی خاص تربیت نہیں ملی ہے۔ صرف چند لوگوں کو ڈرائیونگ اور زراعت کی تربیت دی جا رہی ہے۔

ایک خاتون نے بتایا، ’اوپر سے دیکھنے پر سب کچھ اچھا نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ ہم بچپن سے جنگلوں میں رہنے کے عادی رہے ہیں۔ اب یہاں بہت مشکل محسوس ہوتا ہے۔ اپنے گاؤں اور گھر میں رہنے جیسا بالکل نہیں ہے۔ اوپر سے ہم خوش دکھائی دیتے ہیں، لیکن ہم خوش نہیں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اپنے گھر واپس چلے جائیں اور وہاں کھیتی باڑی کرکے اپنا گزر بسرکریں۔‘

اس موضوع پر عثمانیہ یونیورسٹی، آرٹس کالج، حیدرآباد کے پرنسپل پروفیسر چنتاکندی قاسم کہتے ہیں،’حکومت کی جانب سے مین اسٹریم میں واپس آنے کی اپیل پر یا مجبوری کے باعث سینکڑوں ماؤ نوازوں نے مختلف ریاستوں میں پولیس کے سامنے ہتھیار ڈالے، جن میں بڑی تعداد خواتین کی ہے۔ جس طرح شمال-مشرقی ریاستوں میں ہتھیار ڈالنے والے عسکریت پسندوں کو مین اسٹریم سے جوڑا گیا اور انہیں باعزت زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا گیا، اسی طرح انہیں بھی اپنی مرضی سے اپنے گھر اور گاؤں جانے کی آزادی دینی چاہیے۔ مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں کو اس پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے تاکہ معاشرے میں بدامنی پیدا نہ ہو۔‘

کلچر کا سوال

ماؤ نوازوں کی بڑی تعداد میں خودسپردگی اور حکومت کے بازآبادکاری کے دعووں کے درمیان قبائلیوں کے جل، جنگل، زمین اور ان کی ثقافت کی بحث کہیں دب سی گئی ہے۔ بستر میں آج جس تیزی سے صارفیت، کان کنی اور سیاحت اپنے قدم پھیلا رہے ہیں، اس سے قبائلیوں کے لیے نئی  پریشانیاں اور تشویش پیدا ہو رہی ہیں۔

پروفیسر قاسم کا ماننا ہے کہ ان قبائلی خواتین کے برسوں کے سیاسی اور سماجی طرز عمل کو کمتر دکھانے کا مقصد بھی اس میں پوشیدہ ہے۔ وہ ریمپ واک کو مارکیٹ کلچر یا کموڈٹی کلچر کا حصہ سمجھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں،’ایک وقت تھا جب ایشوریہ رائے، سشمتا سین جیسی خواتین کو مسلسل مس ورلڈ یا مس یونیورس کے خطاب مل رہے تھے۔ وہ ایسا دور تھا جب لبرلائزیشن کا عروج تھا اور ایم این سی اپنی مصنوعات دھڑلے سے ہندوستان کی وسیع مارکیٹ میں اتار رہی تھیں۔ اب ماؤ نواز پس منظر سے آنے والی قبائلی خواتین کو بھی یہاں نافذ کیے جا رہے نام نہاد ترقی کے ماڈل کی چیئر لیڈر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

سوال یہیں ختم نہیں ہوئے۔ ریاست میں برسراقتدار بی جے پی اور اس کی مربی تنظیم آر ایس ایس عموماً ہندوستانی ثقافت پر مغربی ثقافت کے اثرات کی مخالفت کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے سو دیسی کے پہلو کو ہمیشہ توجہ دیتے نظر آتے ہیں۔ ایسے میں کچھ ناقدین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ ہنڈلوم ڈے کے موقع پر منعقد کی گئی یہ ریمپ واک کیا مغربی ثقافت کا حصہ نہیں تھی؟

اپنی ایک خصوصی ثقافتی شناخت رکھنے والی قبائلی خواتین پر مغربی ممالک کے فیشن کلچرکو مسلط کرنا ان کی بازآبادکاری میں کس طرح کا کردار ادا کر سکتا ہے؟ اگر واقعی انہیں قبائلی ثقافت اور دیسی ثقافت پر فخر ہے تو پھر ہندوستانی روایتی فن، لباس، گیت، رقص اور مقامی ہنر کو اسٹیج کیوں نہیں کیا گیا؟

ماؤازم اور آپریشن کگار

قابل ذکر ہے کہ ملک میں تقریباً پانچ دہائیوں سے جاری نکسل یا ماؤ نواز تحریک کے باعث، خصوصی طور پر وسطی ہندوستان کے قبائلی علاقوں میں پولیس و نیم فوجی دستوں اور ماونوزاروں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ نکسلیوں پر سکیورٹی فورسز پر حملے کرنے اور مخبروں کے نام پر عام شہریوں کو قتل کرنے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں، جبکہ سکیورٹی فورسز پر فرضی مڈبھیڑوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔

مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے مسلسل چلائے جانے والے انسدادِ شورش آپریشنز میں 2024 ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جب آپریشن کگار کے نام سے ایک وسیع پیمانے پر مہم شروع کی گئی اور 31 مارچ 2026 تک ملک کو نکسل ازم سے پاک کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا۔

Maoist PTI10 26 2025 000342B e1786893716236

چھتیس گڑھ کے کانکیر ضلع میں ہتھیار ڈالنے کے لیے آتے ہوئے ماؤزمی کیڈر۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

اس کے بعد بستر کے علاقے میں کئی بڑی ’مڈبھیڑیں‘ ہوئیں، جن میں درجنوں مبینہ ماؤزمی کیڈر اور رہنما مارے گئے۔ اس کے بعد پولٹ بیورو کے رکن مَلّوجولا وینوگوپال کی قیادت میں ماؤزمی تنظیم کے ایک دھڑے نے مسلح جدوجہد ترک کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اکتوبر 2025 میں حکومت کے سامنے ہتھیاروں سمیت خودسپردگی کردی۔ تاہم تنظیم کے دوسرے رہنماؤں، جیسے دیوجی اور ہڈما، نے اس کی مخالفت کی اور جدوجہد جاری رکھنے کی بات کہی۔

لیکن بعد کے واقعات میں ہڈما آندھرا پردیش کے جنگلات میں ایک مبینہ مڈبھیڑ کے دوران مارا گیا، جبکہ دیوجی سمیت کچھ دیگر رہنماؤں نے تلنگانہ پولیس کے سامنے خودسپردگی کردی۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ بستر کے علاقے میں سرگرم چھوٹے بڑے تمام کیڈروں نے بھی ہتھیار ڈال دیے۔

اس کے بعد تقریباً تمام خودسپردگی کرنے والے کیڈروں کو حکومت نے ضلع ہیڈکوارٹروں میں پولیس لائنز میں قائم کیے گئے ’بحالی مراکز‘ میں رکھا ہوا ہے۔ ان میں خواتین کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ صرف سکما کے بحالی مرکز میں ہی سو سے زیادہ خواتین موجود ہیں، جن میں زیادہ تر سابق ماؤزمی ہیں۔ ان میں کچھ تعداد ایسی دیہی خواتین کی بھی ہے جن پر ماؤزمی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ