واشنگٹن/مکہ — سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مکہ میں طے پائے نئے دفاعی معاہدے کا خیر مقدم کیا اور اس میں شامل ممالک — پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ — کی قیادت کی کھل کر تعریف کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں اتحاد اور سلامتی کو مضبوط کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ اس بات کا مظہر ہے کہ مشرقِ وسطیٰ متحد ہو رہا ہے اور ریاستیں اپنے دفاع کے لیے مزید مؤثر طریقے سے تعاون کریں گی۔ انہوں نے اس اتحاد کو دہشت گردی، علاقائی تنازعات اور بیرونی خطرات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی جال قرار دیا۔
ٹرمپ نے خاص طور پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت کو سراہا اور کہا کہ ان کی مستقل حکمتِ عملی اور تعاون خطے کو امن و استحکام کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس کوشش کی حمایت کرے گا اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھے گا تاکہ خطے میں دیرپا امن اور تعاون ممکن ہو سکے۔
مکہ دفاعی معاہدے کی تفصیلات کے بارے میں ابھی تک سرکاری سطح پر تمام شرائط عام نہیں کی گئیں، مگر مبصرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد علاقائی فوجی تعاون، اطلاعات کے تبادلے اور مشترکہ دفاعی مشقیں شامل کرنا ہو گا۔ ماہرین نے کہا کہ اگر معاہدے پر موثر عمل درآمد ہوا تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں جیوپولیٹیکل توازن کو تبدیل کر سکتا ہے۔
بین الاقوامی ردِ عمل مخلوط رہا ہے—کچھ ممالک نے استقبال کیا جب کہ دیگر نے خدشات ظاہر کیے۔ خطے کے اندرونی اور بیرونی طاقتیں معاہدے کے اثرات کا قریب سے جائزہ لے رہی ہیں۔

