زمین پر زندگی کیسے شروع ہوئی؟ اربوں سال پرانے فوسلز سے اہم سراغ مل گئے
سائنس دانوں کے مطابق زمین پر زندگی کا آغاز ساڑھے تین ارب سال سے بھی پہلے ہوچکا تھا۔
سائنس دانوں نے ایک ارب 70 کروڑ سال پرانے انتہائی چھوٹے حیاتیاتی فوسلز کی تحقیق کے ذریعے زمین پر پیچیدہ زندگی کے آغاز کے راز جاننے کی کوشش تیز کردی ہے۔
محققین کے مطابق یہ قدیم باقیات اس اہم سوال کا جواب تلاش کرنے میں مدد دے سکتی ہیں کہ زمین پر صرف خوردبینی جانداروں کی دنیا سے پودوں، جانوروں اور پھپھوندی پر مشتمل پیچیدہ زندگی کا آغاز کیسے ہوا۔
سائنس دانوں کے مطابق زمین پر زندگی کا آغاز ساڑھے تین ارب سال سے بھی پہلے ہوچکا تھا جب کہ آکسیجن پیدا کرنے والے خوردبینی جاندار کم از کم دو ارب 30 کروڑ سال پہلے موجود تھے۔
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ پیچیدہ خلیوں والی زندگی کم از کم ایک ارب 70 کروڑ سال پہلے وجود میں آچکی تھی۔ ایسے خلیوں میں جینیاتی مادہ ایک مخصوص حصے میں محفوظ ہوتا ہے اور توانائی پیدا کرنے والے خصوصی حصے بھی موجود ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہی جاندار بعد میں پودوں، جانوروں اور پھپھوندی سمیت پیچیدہ کثیر خلوی زندگی کی بنیاد بنے تاہم ان کے ابتدائی آثار تلاش کرنا انتہائی مشکل ہے۔
قدیم جانداروں کے جسم پر کروڑوں سال پہلے سخت خول یا ہڈیاں موجود نہیں تھیں، اس لیے ان کے نرم اور انتہائی چھوٹے جسمانی حصوں کا محفوظ رہنا بہت مشکل تھا۔ زمین کی سطح میں آنے والی طویل المدتی تبدیلیوں نے بھی قدیم فوسلز کو مزید متاثر کیا۔
تحقیق کے لیے سائنس دان ناروے کے قریب سوالبارڈ کے تقریباً 100 مربع کلومیٹر علاقے سمیت ان مقامات کا جائزہ لے رہے ہیں جہاں کبھی سمندر موجود تھا۔ آسٹریلیا سے بھی تقریباً ایک ارب 75 کروڑ سال پرانے قدیم پیچیدہ خلیاتی فوسلز دریافت ہوچکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق قدیم ساحلی ماحول غذائی اجزا سے بھرپور ہونے کے باعث ابتدائی پیچیدہ زندگی کے لیے موزوں ہوسکتا تھا جب کہ مٹی کے بڑے ذخائر نے بھی حیاتیاتی باقیات کو محفوظ رکھنے میں کردار ادا کیا ہوگا۔
سائنس دانوں کا مزید کہنا ہے کہ زمین پر پیچیدہ زندگی کے ارتقا کو سمجھنے سے دیگر سیاروں اور برفانی چاندوں پر زندگی کے ممکنہ آثار تلاش کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

