لیڈ: ایک نئے CNBC/Generation Lab سروے میں 18 تا 34 سال کے 1,088 امریکی نوجوانوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور اسے تشکیل دینے والے ٹیک لیڈران کے تئیں گہرا عدمِ اعتماد سامنے آیا؛ 45 فیصد نے کہا کہ اے آئی ان کے کیریئرز پر منفی اثر ڈال سکتی ہے جبکہ صرف 10 فیصد نے اسے فائدہ مند قرار دیا۔
سروے میں شامل شرکاء سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ٹیک لیڈرز کو اے آئی کے حوالے سے ذمہ دارانہ رویہ اپنانے پر بھروسہ کرتے ہیں، تو اکثریت نے نفی میں جواب دیا۔ پالانٹیر کے بانی و سی ای او ایلکس کارپ پر سب سے زیادہ عدمِ اعتماد ظاہر کیا گیا — 81 فیصد نے انہیں قابلِ اعتماد نہ سمجھا۔ پے پال کے سابق سی ای او اور پالانٹیر کے شریک بانی پیٹر تھیل پر 79 فیصد نے عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ اینتھروپک کے شریک بانی ڈاریو امودی اور گوگل کے سی ای او سندر پچائی کے بارے میں بالترتیب تقریباً 76 فیصد اور 74 فیصد شرکاء نے عدمِ اعتماد دکھایا۔ تقریباً 70 فیصد نے مارک زکربرگ، سیم آلٹ مین، جینسن ہوانگ اور ایلون مسک پر بھی عدمِ اعتماد ظاہر کیا۔ مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیہ نڈیلا کو نسبتاً سب سے زیادہ بھروسہ ملا، مگر صرف 35 فیصد نے ان پر اعتماد ظاہر کیا۔
پالیسی کے معاملات پر سروے نے بتایا کہ 40 فیصد نوجوان وفاقی حکومت سے اے آئی ضوابط وضع کرنے کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ 60 فیصد نے کہا کہ نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کی رفتار سست ہونی چاہیے۔ سروے کے نتائج اس تشویش کی عکاسی کرتے ہیں جو نوجوان نسل میں تیزی سے پھیلتی اے آئی ٹیکنالوجی اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات کے حوالے سے پائی جا رہی ہے۔

