میلانیا کہاں ہیں؟ اور ٹرمپ کے ساتھ نظر کیوں نہیں آ رہیں؟

397792 1980070334


خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کئی ہفتوں سے منظر عام سے غائب ہیں اور حالیہ رپورٹس کے مطابق وہ بہت سے اہم پروگراموں میں بھی نظر نہیں آئیں، جن میں ان کے شوہر شریک ہوئے۔

انہوں نے 28 جولائی کو سینیٹر لنڈسے گراہم کی آخری رسومات میں بھی شرکت نہیں کی۔ اس سے چار روز قبل وائٹ ہاؤس کے نمائندگان کے ڈنر میں بھی وہ شریک نہیں ہوئیں جبکہ 22 جولائی کو جب صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں جان سے جانے والے چار فوجیوں کی میتوں کی منتقلی کی باوقار تقریب میں شرکت کے لیے گئے تو خاتونِ اول وہاں بھی نظر نہیں آئیں۔

درحقیقت این بی سی نیوز کے مطابق میلانیا ٹرمپ آخری مرتبہ 19 جولائی کو عوامی طور پر منظرعام پر آئی تھیں، یعنی تقریباً ایک ماہ قبل۔ اس روز انہوں نے نیو جرسی کے میٹ لائف سٹیڈیم میں فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں اپنے شوہر کے ہمراہ شرکت کی تھی۔

اس سے قبل ان کی عوامی تقریبات میں 14 جون کو وائٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والا یو ایف سی فریڈم 250 ایونٹ بھی شامل تھا۔ 13 فروری کو انہوں نے ٹرمپ کے ہمراہ ان خصوصی آپریشنز کے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا تھا جو جنوری میں وینزویلا کے اس وقت کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کی کارروائی میں شامل تھے۔

نیوز ویک کی جانب سے تصاویر کے تجزیے کے مطابق، یہ تقریبات ان 34 عوامی پروگراموں میں شامل تھیں جن میں سلووینیا میں پیدا ہونے والی خاتونِ اول نے 2026 میں اب تک شرکت کی ہے۔ ڈیلی بیسٹ کی ایک الگ گنتی کے مطابق میلانیا ٹرمپ رواں سال 38 دن عوامی سطح پر نظر آئی ہیں، یعنی تقریباً ہر چھ روز میں ایک بار۔

این بی سی نیوز کے مطابق اس کے مقابلے میں ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران اس وقت تک خاتونِ اول تقریباً دو گنا زیادہ عوامی تقریبات میں شریک ہو چکی تھیں۔

ایک سینیئر مشیر نے ادارے کو بتایا کہ میلانیا ٹرمپ ’نمائش کے بجائے نتائج کو ترجیح دیتی ہیں۔‘

دی انڈپینڈنٹ نے وائٹ ہاؤس سے اس حوالے سے تبصرے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خاتونِ اول، جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ فلوریڈا اور نیویارک میں خاصا وقت گزارتی ہیں، جہاں بیرن ٹرمپ کالج میں زیر تعلیم ہیں، اس سے قبل بھی طویل عرصے تک منظر عام سے غائب رہی ہیں۔

نیوز ویک کے مطابق وہ جنوری اور فروری کے درمیان تقریباً ایک ماہ تک عوامی سطح پر نظر نہیں آئی تھیں۔ دوسری جانب اگست تاریخی طور پر واشنگٹن میں نسبتاً پُرسکون مہینہ رہا ہے اور اس دوران بڑے عوامی پروگرام بھی کم ہوتے ہیں۔

ایسے وقت میں جب میلانیا ٹرمپ منظر عام سے دور ہیں، ٹرمپ کی معاون نیٹلی ہارپ شاذ و نادر ہی صدر سے دور دکھائی دیتی ہیں۔

درحقیقت، اطلاعات کے مطابق 35 سالہ نیٹلی ہارپ ان افراد کے ایک چھوٹے سے گروپ میں شامل تھیں، جو جولائی میں ترکی سے روانہ ہونے والے ایک فوجی طیارے میں ٹرمپ کے ساتھ سوار ہوئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ کو چلانے میں مدد کرنے والی نیٹلی ہارپ نے 11 اور 16 اگست کو بھی ٹرمپ کے ہمراہ میرین ون میں سفر کیا۔

انہوں نے 22 جولائی کو مشرق وسطیٰ میں کارروائیوں کے دوران جان سے جانے والے فوجیوں کی میتوں کی منتقلی کی باوقار تقریب میں صدر کے ساتھ شرکت کی اور مئی میں چین کے سرکاری دورے کے دوران بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ اس دورے میں میلانیا ٹرمپ شریک نہیں تھیں۔

نیویارک ٹائمز کے رپورٹرز میگی ہیبرمین اور جوناتھن سوان کے مطابق ٹرمپ نیٹلی ہارپ کو اپنی سب سے وفادار معاونین میں شمار کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ وہ انہیں کبھی نہیں چھوڑیں گی۔ نیٹلی ہارپ نے ٹرمپ کے لیے حوصلہ افزا پیغامات بھی لکھے اور انہیں ان کی ’ذاتی جگہوں‘ پر چھوڑا۔ ایک پیغام میں لکھا تھا: ’میرے لیے آپ ہی سب کچھ ہیں۔‘

نیٹلی ہارپ کے الگ رہنے والے بھائی نے صدر کے ساتھ ان کے تعلق کو ’انتہائی غیر صحت مند‘ قرار دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے اس سے قبل دی انڈپینڈنٹ کو بتایا تھا: ’کسی بھی صدر نے اپنے عملے اور انتظامیہ کے عہدیداروں میں صدر ٹرمپ جتنی وفاداری پیدا نہیں کی، یہ ہمارے ملک اور اس کے عوام کے لیے ان کی وابستگی کا ثبوت ہے۔‘

ترجمان نے مزید کہا: نیٹلی ہارپ وائٹ ہاؤس کی ایک محبوب عہدیدار ہیں اور جعلی خبریں پھیلانے والا میڈیا کبھی یہ نہیں سمجھ سکے گا کہ ان جیسی قابلِ اعتماد اور قابلِ احترام شخصیت ہونا کیسا ہوتا ہے۔‘





Source link

متعلقہ پوسٹ