جزیرے پر تہہ در تہہ دفاعی نظام قائم، کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل بھی شامل
جزیرے کے اطراف میں بارودی سرنگیں بھی بچھا دیں
تہران/واشنگٹن (26 مارچ 2026): ایران نے خلیج فارس میں واقع اپنے اہم تیل برآمداتی جزیرے خارگ پر دفاعی انتظامات کو شدید مضبوط کر دیا ہے۔ امریکی فوج کی ممکنہ زمینی کارروائی کے پیش نظر تہران نے وہاں تہہ در تہہ دفاعی نظام قائم کر دیا ہے، جس میں کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے MANPADS (زمین سے فضا میں مار کرنے والے پورٹیبل میزائل سسٹم) بھی شامل ہیں۔
امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے جزیرے کے ساحلوں اور ممکنہ لینڈنگ پوائنٹس پر اینٹی پرسنل اور اینٹی آرمر بارودی سرنگیں (anti-personnel and anti-armour mines) بچھا دی ہیں۔ یہ اقدامات امریکی میرینز اور دیگر فورسز کے ممکنہ حملے کو ناکام بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
خارگ جزیرہ ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات کا مرکز ہے۔ امریکی فوج نے 13 مارچ کو اس جزیرے پر بڑا فضائی حملہ کیا تھا، جس میں 90 سے زائد فوجی اہداف — بشمول بارودی سرنگوں کے ذخیرے اور میزائل بنگروں — کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم، تیل کی سہولیات کو جان بوجھ کر محفوظ رکھا گیا۔
اب ایران نے جزیرے پر اضافی فوجی دستے تعینات کر دیے ہیں اور ہوائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ "مہلک جال” (death trap) امریکی فورسز کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ خارگ پر قبضے کی منظوری دے دیں۔
امریکی فوج نے علاقے میں میرینز اور 82ویں ایئر بورن ڈویژن کے ہزاروں فوجی بھیجنے کا عمل شروع کر دیا ہے، لیکن وائٹ ہاؤس ابھی تک زمینی آپریشن کی حتمی منظوری نہیں دی۔

