تازہ رائٹرز/ایپسوس سروے میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی منظوری کی شرح 33 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو ان کی موجودہ مدتِ صدارت میں کم ترین سطح قرار پائی۔ عوامی ناراضگی طویل ایران تنازع، بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت اور سخت امیگریشن پالیسیاں بتائی جا رہی ہیں۔
سروے (1166 بالغ امریکیوں، آن لائن، 17 اگست کو بند) نے دکھایا کہ 64 فیصد امریکی ٹرمپ کی قیادت سے ناخوش ہیں۔ نتائج دسمبر 2017 کی ناقابلِ قبول سطح کے برابر ہیں، اور سروے کے مطابق تقریباً 80 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ طویل عرصے تک جاری رہے گی — ایک عنصر جس نے صدر کی مقبولیت پر منفی اثر ڈالا۔ صرف 16 فیصد لوگ سمجھتے ہیں کہ تنازع چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گا۔
اقتصادی دباؤ بھی منفی رویے کا سبب بنا ہوا ہے۔ ایران تنازع اور بحیرہٴ ہرمز کی بندش کے بعد تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ عام صارفین پر اثر انداز ہوا، جبکہ پینٹاگون نے ایران جنگ کا تخمینہ تقریباً $37.5 بلین بتایا۔ غیر یقینی معیشت کی وجہ سے اب پہلی بار زیادہ امریکی ووٹرز کا ماننا ہے کہ ڈیموکریٹس معیشت بہتر سنبھال سکتے ہیں—سروے میں 38 فیصد نے ڈیموکریٹس کو بہتر قرار دیا بمقابلہ 35 فیصد جو ریپبلکنز پر اعتماد رکھتے ہیں۔
امیگریشن کی سخت پالیسیوں نے بھی ریپبلکن حمایت کم کر دی ہے؛ تازہ پول میں امیگریشن کے حوالے سے ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کے درمیان فرق محض ایک پوائنٹ رہ گیا (40% بمقابلہ 38%)۔ رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ امیگریشن کریک ڈاؤن سے معیشت اور جامعات پر ممکنہ منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جن میں اربوں ڈالر کا نقصان اور ہزاروں نوکریوں کے ختم ہونے کا خدشہ شامل ہے۔ ساتھ ہی، حراستوں اور اموات کے متعلق ڈیٹا نے انسانی حقوق کے سوالات کو جنم دیا ہے، جو عوامی رائے میں مزید تلخی لائے ہیں۔

