یورپ: موسمیاتی تبدیلی نے سمندروں کا درجہ حرارت ۲؍درجہ سیلسیس بڑھا دیا — شدید ماحولیاتی و معاشی اثرات کا خدشہ


یورپ میں انسانی سرگرمیوں سے جنم لینے والی موسمیاتی تبدیلی کے باعث اس موسم گرما میں سمندری درجہ حرارت میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی موسمی انتساب (WWA) کی تازہ تشخیص کے مطابق بحیرہ روم میں سمندری درجہ حرارت میں تقریباً ۲؍درجہ سیلسیس جبکہ مغربی یورپی پانیوں میں ۱.۳ تا ۱.۴؍درجہ سیلسیس تک اضافہ ہوا ہے۔ محققین نے مشاہداتی ڈیٹا کو موسمیاتی ماڈلز سے ملا کر یہ نتیجہ اخذ کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ محض درجہ حرارت کی تبدیلی نہیں؛ سمندری حیاتیات اور ماحولیاتی نظام اس سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے ماہی گیری اور ساحلی معاشی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھے گا۔ WWA نے بیش بہا شواہد دکھائے ہیں جن میں کئی قسمیں شمال کی جانب ٹھنڈے پانیوں کی طرف ہجرت کر رہی ہیں، اور سمندری خوراکی سلسلے میں تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ برن یونیورسٹی کے ماحولیاتی طبیعیات دان تھامس فروئلیچر نے کہا کہ ’’آئر لینڈ کے اطراف کے اوقیانوسی پانیوں سے لے کر بحیرہ روم تک یورپی سمندر حرارت میں خطرناک اضافہ دیکھ رہے ہیں۔‘‘
سمندری ماہر جان برونو نے خبردار کیا کہ بعض اقسام پر محض ایک ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کے بھی سنگین حیاتیاتی نتائج مرتب ہو سکتے ہیں، مثال کے طور پر مرجانی چٹانیں۔ WWA کے مطابق جولائی کے سب سے گرم دو ہفتوں میں بحیرہ روم کے بعض حصوں میں درجہ حرارت معمول سے ۶؍درجہ سیلسیس تک زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس سال بے آؤف بسکے اور آئبیرین ساحل کا تقریباً ۹۰؍فیصد حصہ اور مغربی بحیرہ روم کا ۸۰؍فیصد حصہ سمندری گرمی کی لہروں (marine heatwaves) کی زد میں آیا۔
موسمی انتساب کا اندازہ ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موجودہ عالمی گرمائش (تقریباً ۱.۴؍درجہ سیلسیس) نہ ہوتی تو مذکورہ علاقوں میں سے صرف ۴۰؍فیصد متاثر ہوتے۔ محققین نے خبردار کیا ہے کہ گرم سمندر ساحلی علاقوں میں نمی اور گرمی کی شدت میں اضافے کا سبب بن کر انسانی صحت اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ کلیئر برگن نے کہا کہ ’’گرم پانی ساحلوں پر ظاہری طور پر پرکشش ہو سکتے ہیں، مگر سطح کے نیچے ماحولیاتی نقصانات کہیں زیادہ سنگین ہیں۔‘‘
ماہرین کا اصرار ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے انسانی ماخذ کو کم کیے بغیر ایسے واقعات کی شدت اور تعدد میں اضافہ جاری رہے گا، اور یورپ کے لیے یہ ایک بڑھتا ہوا ماحولیاتی و سماجی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

متعلقہ پوسٹ