’صحت مند قرار دیے جانے‘ پر عمران خان پمز سے واپس جیل منتقل: وزیر

312846 1297756314


وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے جمعے کو بتایا ہے کہ سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کو اسلام آباد کے پمز ہسپتال سے صبح 5 بجے واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا اور ڈاکٹروں نے انہیں طبی طور پر صحت مند قرار دیا ہے۔

گذشتہ روز پی ٹی آئی کے انٹرنیشنل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ عمران خان کو جمعے کی شب اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال طبی معائنے کے لیے منتقل کیا گیا۔ اس دوران ہسپتال کے باہر پولیس کی بھاری نفری موجود رہی۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ایکس پر بیان سامنے آنے تک خود پارٹی کے رہنما اور ترجمان بھی عمران خان کی موجودگی کے بارے میں لاعلم تھے۔

انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار قرۃ العین شیرازی کے مطابق رات گئے شفا ہسپتال کے اطراف میں تعینات کی گئی سکیورٹی جمعے کی صبح ہٹا دی گئی، نصب کی گئی رکاوٹیں اور خاردار تاریں بھی اب موجود نہیں ہیں جبکہ ہسپتال کی سکیورٹی صورت حال بظاہر معمول پر آ گئی ہے۔

عمران خان کی ہسپتال میں موجودگی یا جیل منتقلی کے حوالے سے یہ کشمکش اس وقت ختم ہوئی جب عطا تارڑ نے جمعے کی صبح ایکس پر ان کی اڈیالہ منتقلی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان کا طبی معائنہ پمز ہسپتال میں کروایا گیا، جہاں شفا ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔

سپریم کورٹ نے دو دن قبل حکم دیا تھا کہ جمعے کی رات 12 بجے سے قبل عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جائے جبکہ پی ٹی آئی نے عندیہ دیا تھا کہ اگر عدالتی حکم پر عمل نہ ہوا تو سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

جمعے کی صبح وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے ایکس پر لکھا: ’سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قیدی کو 20 اور 21 اگست 2026 کی درمیانی شب مناسب سکیورٹی انتظامات کے تحت ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے، جس میں ماہر امراض چشم، ماہر امراض قلب اور معالج شامل تھے، ان کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر صحت مند قرار دیا۔‘

عطا تارڑ نے مزید لکھا: ’ان کی بہن مسز عظمٰی خان طبی معائنے اور علاج کے تمام مراحل کے دوران موجود رہیں۔ اس پورے عمل کی تکمیل کے بعد انہیں 21 اگست 2026 کی صبح تقریباً 5 بجے دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔‘

بعدازاں اپنی ایک اور پوسٹ میں وزیر اطلاعات نے تصدیق کی کہ سابق وزیراعظم کو اسلام آباد کے پمز ہسپتال لے جایا گیا تھا۔

انہوں نے ایکس پر ’اضافی تفصیلات‘ دیتے ہوئے لکھا: ’(عمران خان کا) طبی معائنہ پمز ہسپتال میں کیا گیا، جہاں الشفا ہسپتال کے ڈاکٹر بھی موجود تھے۔ الشفا ہسپتال جاتے ہوئے اور اس کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پیدا کی گئی سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر انہیں پمز ہسپتال لے جایا گیا، جہاں طبی معائنے کے مطابق انہیں صحت مند قرار دیا گیا۔ انہیں اس سے قبل بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی جب انہیں ضرورت ہوگی، طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔‘

وزیر اطلاعات کے بیان کے بعد پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم نامے کے مطابق ہسپتال منتقل کرنا لازم تھا۔

انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہیں یہ بھی توقع نہیں تھی کہ عمران خان کو کسی دوسرے ہسپتال منتقل کیا جائے گا یا یہ نہیں بتایا جائے گا کہ انہیں کس ہسپتال لے جایا گیا اور ان کے کون سے ٹیسٹ کیے گئے۔

بیرسٹر گوہرکے مطابق: ’سپریم کورٹ کا آرڈر واضح تھا اور اگر اس میں کوئی ابہام ہوتا تو اس پر نظرثانی کی درخواست کی جا سکتی تھی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ توہین عدالت ایک الگ معاملہ ہے، تاہم پی ٹی آئی کی کوشش ہے کہ سیاسی مسائل کا سیاسی حل نکالا جائے۔

73 سالہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو گذشتہ سال کے آخر میں بدعنوانی اور دیگر جرائم کے الزامات میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ 2023 سے جیل میں قید عمران خان کا اصرار ہے کہ ان کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رواں برس انہیں دائیں آنکھ میں ریٹینا سے متعلق ایک بیماری تشخیص ہوئی تھی، جس کے بارے میں ان کے وکلا نے خبردار کیا تھا کہ اس سے بینائی مستقل طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔

اڈیالہ جیل کے حکام کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی ان کی گذشتہ دنوں طبی رپورٹ کے مطابق عمران خان میں بلڈ پریشر اور بے چینی کی ’شدید‘ علامات پائی گئیں۔ تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے عمران خان کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس پر اڈیالہ جیل حکام کی جانب سے رپورٹ جمع کروائی گئی ہے۔ 

ان کی جماعت پی ٹی آئی مسلسل مطالبہ کرتی رہی ہے کہ ان کا علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ان کے منتخب کردہ ڈاکٹروں سے کروایا جائے۔

عمران خان کے وکلا نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ ان کی صحت ٹھیک نہیں اور انہیں طبی معائنے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے منگل کو اپنے حکم میں کہا کہ عمران خان کو دو دن کے اندر ہسپتال منتقل کیا جائے۔

اس سال کے اوائل میں بھی عمران خان نے ایک ہسپتال میں آنکھوں کا علاج کروایا تھا۔ اس وقت ان کے اہلِ خانہ نے کہا تھا کہ ان کی دائیں آنکھ کی زیادہ تر بینائی متاثر ہو چکی ہے۔

تین رکنی بینچ نے اپنے حکم میں مزید کہا کہ عمران خان کو ہفتے میں ایک مرتبہ اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات اور ہفتے میں دو مرتبہ اپنے بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرنے کی اجازت ہوگی۔

عدالت نے مزید کہا کہ ان کے علاج کے لیے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک پینل تشکیل دیا جائے گا، جس میں ان کی بہن اور ڈاکٹر، عظمیٰ خان کو بھی شامل ہونے کی اجازت ہوگی۔

جمعے کی شب نجی ہسپتال شفا کے قریب عمران خان کے درجنوں حامی جمع ہوئے جبکہ بعض نے وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں پر سرخ پھولوں کی پتیاں بھی نچھاور کیں۔

69 سالہ یونس قریشی نے خبر رساں ادارے ایے ایف پی کو بتایا کہ وہ ’اس شخص سے اظہارِ یکجہتی کے لیے آئے ہیں جس نے پاکستان کے لیے بہت سی قربانیاں دی ہیں۔‘

52 سالہ ایک اور حامی بلال نے امید ظاہر کی کہ سابق ورلڈ کپ فاتح اور کرکٹ کپتان عمران خان کو مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا: ’ہماری محبت اور وابستگی ہمیشہ خان صاحب کے ساتھ رہے گی۔‘

ادھر جمعرات کو حکومت نے عندیہ دیا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو عمران خان کو علاج کے لیے بیرونِ ملک بھیجا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے سپریم کورٹ سے رجوع صرف یہ وضاحت حاصل کرنے کے لیے کیا ہے کہ حالیہ عدالتی حکم میں دیا گیا ریلیف صرف ایک فرد تک محدود ہے یا دیگر قیدیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

یہ بیان پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سینیٹ کے ایک اجلاس کے دوران دیا تھا۔

اس موقعے پر قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے سابق وزیراعظم عمران خان اور زیر حراست پی ٹی آئی رہنماؤں، جن میں ڈاکٹر یاسمین راشد اور اعجاز چوہدری شامل ہیں، کو صحت کی ناکافی سہولیات فراہم کیے جانے کا معاملہ اٹھایا اور تمام سیاسی قیدیوں کے لیے ریلیف کا مطالبہ کیا۔

عمران خان 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیر اعظم رہے۔ انہیں 2022 میں ایک سیاسی بحران کے دوران تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ یہ بحران ان کی حکومت اور طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں پیدا ہوا تھا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ