پاکستان نے ایف آئی ایچ مینز ہاکی ورلڈ کپ میں 16 سال بعد پہلی فتح حاصل کرتے ہوئے جاپان کو 4-3 سے شکست دے دی۔
وگنر سٹیڈیم میں ہفتے کو کھیلے گئے نویں سے 16ویں پوزیشن کے کلاسیفکیشن میچ میں پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد جاپان کو ہرایا۔
آٹھ سال کے وقفے کے بعد ورلڈ کپ میں واپسی کرنے والی پاکستانی ٹیم کا ایونٹ کے ابتدائی مرحلے میں سفر مایوس کن رہا۔
گرین شرٹس کو انگلینڈ اور روایتی حریف انڈیا سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ویلز کے خلاف 3-3 سے میچ برابر ہونے کے باعث پاکستان کو صرف ایک پوائنٹ ملا۔
مین راؤنڈ کے اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی نہ کرنے کے بعد پاکستان ٹیم نے ٹورنامنٹ کے فارمیٹ کے تحت کلاسیفکیشن میچ میں جاپان کا سامنا کیا۔
جاپان نے میچ کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا اور پہلے کوارٹر میں ہی ہاؤتا یامادا اور کائیٹو تاناکا کے گولز کی بدولت 2-0 کی برتری حاصل کرلی۔
پاکستان نے دوسرے کوارٹر میں واپسی کی اور رانا وحید اشرف نے گول کرکے خسارہ کم کرتے ہوئے سکور 2-1 کر دیا۔ ہاف ٹائم تک یہی سکور برقرار رہا۔
تیسرے کوارٹر کے آغاز کے صرف دو منٹ بعد رانا وحید اشرف نے اپنا دوسرا گول داغ کر مقابلہ 2-2 سے برابر کردیا۔
اگلے منٹ میں محمد حماد الدین نے گیند جال میں پہنچا کر پاکستان کو 3-2 کی برتری دلا دی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم جاپان نے فوری جوابی حملہ کیا اور دو منٹ بعد کوجی یاماساکی نے گول کر کے سکور ایک بار پھر 3-3 سے برابر کردیا۔
پاکستان کے حنان شاہد نے 40ویں منٹ میں فیصلہ کن گول کرتے ہوئے ٹیم کو 4-3 کی برتری دلائی، جو میچ کے اختتام تک برقرار رہی۔
آخری سیٹی تک دونوں ٹیمیں مزید کوئی گول نہ کرسکیں۔
پاکستان کی یہ فتح ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ میں 16 سال بعد پہلی کامیابی ہے۔
گرین شرٹس نے اس سے قبل 2010 کے ورلڈ کپ میں سپین کو 2-1 سے شکست دی تھی۔
پاکستان 2014 کے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کرسکا تھا جبکہ 2018 کے ایڈیشن میں بھی اسے کوئی فتح نصیب نہیں ہوئی تھی۔

