پاکستان کے وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے ہفتے کو کہا ہے کہ خلیجی جنگ کے باعث پاکستانی معیشت پر پڑنے والا دباؤ ختم ہو چکا ہے اور معیشت میں بحالی کا عمل شروع ہو گیا ہے، جبکہ جولائی میں مہنگائی کم ہو کر 9.2 فیصد رہ گئی۔
28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔ اس تنازعے نے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش نے پاکستان جیسے ممالک کے لیے تیل کی قیمتوں اور درآمدی لاگت کو بڑھا دیا، جو ایندھن کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق ہفتے کو اسلام آباد میں ماہانہ ترقیاتی اپ ڈیٹ پیش کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ملک کے مختلف معاشی شعبوں میں اقتصادی اشاریے مسلسل مثبت نمو کی سمت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مشکل معاشی حالات کے دوران حکومت نے سپلائی چین کو کھلا رکھنے اور ذخیرہ اندوزی و ناجائز منافع خوری پر قابو پانے کی کوشش کی۔
وزیر منصوبہ بندی کے مطابق جولائی میں مہنگائی کی شرح 9.2 فیصد رہی، جو رواں سال مئی میں 11.7 فیصد تھی، جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں بھی مثبت رجحان برقرار ہے۔
جولائی میں ترسیلات زر 3.6 ارب ڈالر رہیں، جو گذشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
احسن اقبال نے صنعتی پیداوار میں بھی مثبت پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال بڑی صنعتوں کی پیداوار میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے ملک کی برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی۔
وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت زیادہ استحکام کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، تاہم استحکام منزل نہیں بلکہ اگلا مرحلہ میکرو اکنامک استحکام کو ’اڑان پاکستان‘ کے تحت پائیدار معاشی تبدیلی میں تبدیل کرنا ہے۔
اسلام آباد میں ماہانہ ترقیاتی اپ ڈیٹ پیش کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ حکومت باقاعدگی سے ملک کی معاشی صورت حال، حاصل ہونے والی پیش رفت اور مسلسل توجہ طلب چیلنجز کے بارے میں واضح اور شفاف معلومات فراہم کرنے کے لیے یہ اپ ڈیٹ جاری کر رہی ہے۔

