پمز اسپتال کو 22 ارب کا بجٹ مگر آگ بجھانے کے آلات ناپید، بول نیوز کو مالیاتی بجٹ کی تفصیلات موصول

پمز اسپتال.webp


پمز اسپتال کو 22 ارب کا بجٹ مگر آگ بجھانے کے آلات ناپید، بول نیوز کو مالیاتی بجٹ کی تفصیلات موصول

رواں مالی سال رپیئر اینڈ مینٹیننس کی مد میں 23 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں

اسلام آباد کے سب سے بڑے اسپتال پمز کو گزشتہ تین سال کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے 22 ارب روپے کا خطیر بجٹ فراہم کیے جانے کے باوجود ہنگامی حالات، خصوصاً آگ پر قابو پانے کے لیے بنیادی آلات تک کی عدم دستیابی کا انکشاف ہوا ہے جس نے اسپتال انتظامیہ کی کارکردگی اور بجٹ کے استعمال پر سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

پمز اسپتال کے مالیاتی بجٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں، بول نیوز نے مالیاتی بجٹ کی تفصیلات حاصل کرلیں۔

دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ تین سال کے دوران پمز اسپتال کو 22 ارب روپے کا بجٹ دیا گیا، تاہم اتنے بڑے بجٹ کے باوجود اسپتال میں ہنگامی صورتحال اور آگ پر قابو پانے کے لیے درکار مناسب آلات موجود نہیں تھے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ مالی سال وفاقی حکومت نے پمز اسپتال کے لیے 6 ارب 84 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا، تاہم پمز انتظامیہ نے مختص بجٹ سے زیادہ 7 ارب 51 کروڑ روپے خرچ کیے۔

پمز انتظامیہ نے گزشتہ سال 66 کروڑ روپے اضافی بجٹ بھی وصول کیا۔

رواں مالی سال پمز اسپتال کے لیے 7 ارب 63 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، جبکہ وفاقی حکومت نے گزشتہ سال رپیئر اینڈ مینٹیننس کی مد میں پمز کو 50 کروڑ روپے فراہم کیے۔

رواں مالی سال رپیئر اینڈ مینٹیننس کی مد میں 23 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اسلام آباد کے سب سے بڑے اسپتال کو تین سال میں قومی بجٹ سے 22 ارب روپے فراہم کیے جانے کے باوجود آگ پر قابو پانے کے بنیادی آلات تک موجود نہ ہونے کا معاملہ تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اسپتال انتظامیہ کی جانب سے عمارتوں اور دیگر معاملات پر توجہ دی جاتی رہی، تاہم آگ سے نمٹنے کے لیے ضروری بنیادی آلات کی فراہمی یقینی نہ بنائی جاسکی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتال میں جو آلات موجود بھی تھے، وہ بھی ضرورت کے وقت مؤثر طور پر کام نہ آسکے، جس کے باعث پمز میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

22 ارب روپے کے بجٹ کے باوجود آگ بجھانے کے بنیادی آلات کی عدم دستیابی نے پمز انتظامیہ کے بجٹ استعمال، ترجیحات اور کارکردگی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کردیے ہیں۔



Source link

متعلقہ پوسٹ