بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ایک بار پھر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو واضح کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے انڈیا کا دورہ نہیں کرے گا اور اپنے میچز شریک میزبان ملک سری لنکا میں کرانے کا مطالبہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
منگل کو آئی سی سی کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے دوران بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر انڈیا جانے سے انکار دہراتے ہوئے کہا کہ ٹیم، آفیشلز اور سٹاف کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے۔
بنگلہ دیشی بورڈ کے مطابق آئی سی سی نے ٹورنامنٹ کے شیڈول کے پہلے ہی جاری ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی، تاہم بنگلہ دیش کا مؤقف تاحال تبدیل نہیں ہوا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 7 فروری سے شروع ہو رہا ہے اور بنگلہ دیش کو اپنے چاروں گروپ میچز انڈیا میں کھیلنے ہیں، مگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث ڈھاکہ نے سکیورٹی وجوہات کو بنیاد بنا کر میچز کی سری لنکا منتقلی کی درخواست کی ہے۔
یہ تنازع 3 جنوری کو اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب انڈیا نے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا۔ مستفیض الرحمان کو دسمبر میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے ایک ملین ڈالر سے زائد میں خریدا تھا، تاہم بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا جس پر بنگلہ دیش میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سیاسی سطح پر بھی دونوں ممالک کے تعلقات 2024 میں ڈھاکہ میں ہونے والی عوامی بغاوت کے بعد خراب ہوئے، جس کے نتیجے میں اس وقت کی وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت ختم ہو گئی تھی۔
انڈیا نے حال ہی میں بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے خلاف تشدد پر تشویش کا اظہار کیا تھا، جبکہ عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے ان الزامات کو مبالغہ آمیز قرار دیا ہے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئی سی سی کے ساتھ مشاورت جاری ہے تاکہ کوئی قابلِ عمل حل نکالا جا سکے، تاہم کھلاڑیوں اور عملے کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔‘
لٹن داس کی قیادت میں بنگلہ دیش ٹیم آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں نویں نمبر پر ہے اور اب تک ہونے والے نو میں سے کسی بھی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک نہیں پہنچ سکی۔

