نوجوان امریکی یہودیوں میں اسرائیل سے بےرغبتی، سیاسی و مذہبی حلقوں میں تشویش: سروے


امریکہ میں نوجوان یہودیوں کے اسرائیل سے جذباتی لگاؤ میں کمی دیکھی جا رہی ہے، جس نے سیاسی اور مذہبی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ حالیہ اے پی-نارک سروے کے مطابق نوجوان نسل اپنی شناخت کے ایک اہم جزو کے طور پر اسرائیل کی حمایت کو پرانی نسلوں کے مقابلے میں کم اہمیت دے رہی ہے۔
اسرائیلی اصلاحی تحریک کے اندر بھی اس رجحان پر تشویش پائی جاتی ہے کہ نوجوان امریکی یہودیوں کے ساتھ تعلقات کمزور پڑ رہے ہیں۔ اسرائیلی وزارتِ امورِ خارجہ کے شعبۂ ہجرت کے سربراہ ایتائی نکسن نے کہا: "یہ ہمارے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، ہم صرف اسرائیلیوں کی ریاست نہیں بلکہ پوری یہودی قوم کی ریاست ہیں۔”
اسرائیلی تحریک برائے اصلاح اور ترقی پسند یہودیت کی سربراہ اور موجودہ اسرائیلی انتظامیہ کی نقاد لیسلی سیکس نے بیرونِ ملک یہودیوں کے ساتھ قریبی تعلقات کو اسرائیل اور عالمی یہودی آبادی کے لیے ایک "اسٹریٹجک اثاثہ” قرار دیا۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ بیرونِ ملک یہودی یہ احساس کھو رہے ہیں کہ اسرائیل ان کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بڑھتی ہوئی یہود دشمنی انہیں سیاسی و مذہبی عقائد سے قطع نظر متاثر کر رہی ہے۔
تل ابیب کی اپنی عبادت گاہ میں گفتگو کرتے ہوئے سیکس نے کہا: "یہ ہمیشہ بہت اہم تھا کہ دنیا بھر میں، خاص طور پر ہولوکاسٹ کے بعد، ہر کوئی جانتا ہو کہ ایک ایسا ملک ہے جو انہیں ہمیشہ پناہ دے گا۔ اب کئی نسلیں گزر چکی ہیں اور یہ احساس ان کے ڈی این اے میں کم نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں یہ اسرائیل اور عالمی یہودیت دونوں کی ناکامی ہے کہ ہم اسے نمایاں رکھنے میں کامیاب نہیں رہے۔”
واضح رہے کہ اسرائیل نے سال ۲۰۰۰ء سے اب تک امریکہ اور دیگر ممالک کے دس لاکھ نوجوان یہودی بالغوں کو اسرائیل کے ۱۰ روزہ مفت دورے فراہم کیے ہیں۔ اس پروگرام کے چیف ایگزیکٹو گیدی مارک کے مطابق، اسرائیل سے ذاتی تعلق کو متنازعہ سیاسی مباحثوں سے بالاتر دکھانا پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا: "یہ واقعی میری ملازمت کی اہمیت کو بڑھاتا ہے تاکہ لوگوں کو وہ چیز دکھائی جا سکے جسے وہ ترک کر رہے ہیں، ہم انہیں ایک آئینہ دیتے ہیں۔”
خیال رہے کہ اسرائیل اور ریاستہائے متحدہ کا تاریخی اتحاد ہے، اور اسی ہفتے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کی تاکہ ایران کے ساتھ پانچ ماہ قبل شروع ہونے والے تنازع پر مشاورت کی جا سکے۔ تاہم اس کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات میں دراڑیں واضح طور پر نمایاں ہو رہی ہیں۔

متعلقہ پوسٹ