نیپال-تبت بارڈر کے قریب اچانک آنے والے شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ میں کم از کم 98 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ کیلاش مان سروور یاترا پر گئے 133 ہندوستانی شہریوں سمیت سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں۔ نیپال نے بچاؤ اور راحت کے کاموں کے لیے ہندوستان اور چین سے مدد مانگی ہے۔
26 اگست کو چین کی سرحد کے قریب نیپال میں سیلاب سے متاثرہ بھوٹیکوشی ندی کا فضائی منظر۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: نیپال اور چین کی سرحد سے متصل علاقوں میں بدھ (26 اگست) کو اچانک آنے والے شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ اس میں کم از کم 98 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ سینکڑوں سیاح، تیرتھ یاتری، مزدور اور مقامی لوگوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔
سیلاب نے کئی گاؤں، سڑکوں اور پن بجلی کے منصوبوں کو نقصان پہنچایا ہےاور کئی علاقوں میں آمدورفت مکمل طور پر ٹھپ ہوگئی ہے۔
نیپال کے وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، ملک میں کم از کم 95 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ وہیں چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے بتایا کہ تبت کے گییرونگ کاؤنٹی میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث تین افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 265 لاپتہ ہیں۔
نیپالی حکام کے مطابق، 403 لوگ لاپتہ ہیں، جن میں 341 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔
اس سلسلے میں نیپال ٹورازم بورڈ کے ترجمان سنیل شرما نے بتایا کہ لاپتہ افراد میں تبت میں کیلاش کی یاترا پر گئے 133 ہندوستانی شہری بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 47 امریکی، 34 آسٹریلیائی، 33 برطانوی اور 24 کینیڈین شہریوں کے بھی لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔
اچانک آنے والے سیلاب کے بعد ترشولی ندی میں کیچڑ سے بھرے پانی کا تیز بہاؤ۔
رَسُوا ضلع میں مقامی تہوار جنے پورنیما کے موقع پر گوسائیکنڈ جھیل کی یاترا پر گئے لوگوں میں سے بھی کئی لوگ لاپتہ ہیں۔
حکام کے مطابق، کم از کم 62 نیپالی شہریوں کا پتہ نہیں چل پایا ہے۔ نیپال پولیس کے ترجمان ابی نارائن کافلے نے بتایا کہ 28 پولیس اہلکار بھی لاپتہ ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ بدھ کی صبح تقریباً 9 بجے بھوٹیکوشی ندی میں اچانک آنے والے سیلاب نے کئی گاؤں کو اپنی زد میں لے لیا۔ سڑکوں اور پن بجلی کے منصوبوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ انتظامیہ نے بھوٹیکوشی، ترشولی اور نارائنی ندیوں کے کنارے رہنے والے لوگوں کو محتاط رہنے اور ندی کے کناروں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
نیپال حکومت کے ترجمان سسمت پوکھریل نے کہا کہ بچاؤ اور امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے ہندوستان اور چین دونوں سے مدد مانگی گئی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ سے بات چیت کی اور ہر ممکن مدد کی پیشکش کی ہے۔
پی ایم مودی نے کہا ہے کہ ہندوستان نیپال کو انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور دونوں ممالک کی ٹیمیں بچاؤ اور امدادی کارروائیوں میں باہمی تعاون کر رہی ہیں۔
Spoke to Prime Minister Balendra Shah and conveyed condolences on the loss of lives due to the floods in Nepal. The people of India stand in solidarity with their sisters and brothers in Nepal at this difficult time.
India is ready to provide all possible humanitarian…
— Narendra Modi (@narendramodi) August 26, 2026
ہندوستان نے کاٹھمنڈو اور بیجنگ میں اپنے سفارت خانوں کے ذریعے ہیلپ لائن نمبر جاری کیے ہیں۔ متاثرہ علاقے کے آس پاس موجود چینی حکام کے رابطہ نمبر بھی فراہم کیے گئے ہیں۔
In view of the recent flash-flood in the border areas in the Tibet Autonomous Region, People’s Republic of China, Indian nationals stranded in the vicinity can seek assistance from the following contact points:
i) Chinese officials on the ground: 0086 139 8999 0012
ii) Embassy… pic.twitter.com/sCRmROkhYF
— India in China (@EOIBeijing) August 26, 2026
وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے بتایا کہ ہندوستان نے نیپال کو 10 ٹن امدادی سامان اور ضروری دوائیں بھیجی ہیں۔
وہیں، گنڈک ندی میں پانی کی سطح میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر بہار اور اتر پردیش میں بھی انتظامیہ کو الرٹپر رکھا گیا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
اس واقعہ کے حوالے سے نواکوٹ ضلع سے سامنے آنے والی تصویروں میں عمارتوں کی دوسری منزل تک کیچڑ جمع دکھائی دیا۔ درختوں اور بجلی کے تاروں میں ملبہ پھنسا ہوا تھا، جبکہ کئی گاڑیاں مٹی اور ملبے میں دب گئیں۔ متاثرہ علاقوں میں بچاؤ اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
دریں اثنا، امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے بدھ کی صبح کاٹھمنڈو سے تقریباً 100 کلومیٹر شمال میں، تبت کی سرحد کے قریب 4.4 شدت کا زلزلہ بھی ریکارڈ کیا۔
نیپال میں مونسون کا موسم ٹریکنگ کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا، لیکن تبت میں کیلاش یاترا کے لیے یہ اہم وقت ہوتا ہے۔ کیلاش یاترا کا ایک اہم راستہ نیپال کے رسوا ضلع سے گزرتے ہوئے تبت کے گییرونگ علاقے تک جاتا ہے۔
جنوبی کوریا کے حکام نے بتایا کہ نیپال میں ایک پن بجلی منصوبے پر کام کرنے والے اس کے نو شہری بھی لاپتہ ہیں۔
روسی سفارت خانے کے مطابق، متاثرہ علاقے میں موجود اس کے چار شہریوں سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔
ملیشیا کی وزارتِ خارجہ نے بھی بتایا ہے کہ رسوا ضلع میں موجود سمجھے جانے والے 11 ملیشیائی شہریوں سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
تبت کے گیرونگ علاقے میں چین کی جانب سے بڑے پیمانے پر تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے حکام کو امدادی کارروائیوں میں تیزی لانے کی ہدایت کی ہے۔
آسٹریلیا، برطانیہ، یورپی یونین، فن لینڈ، فرانس، ناروے اور سوئٹزرلینڈ نے مشترکہ بیان جاری کرکے نیپال کے متاثرہ لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔
اچانک آنے والے سیلاب کے بعد ترشولی ندی کے کنارے امدادی کارکن ارتھ موور کی مدد سے ایک متاثرہ شخص کو محفوظ مقام پر منتقل کر تے ہوئے۔(تصویر: اے پی/پی ٹی آئی)
اسی علاقے میں گزشتہ سال بھی سیلاب آیا تھا
غور طلب ہے کہ نیپال اور تبت کی سرحد سے متصل یہی علاقہ گزشتہ سال اگست میں بھی اچانک آنے والے سیلاب سے متاثر ہوا تھا۔ اس وقت تبت میں ایک گلیشیئر جھیل میں طغیانی کے باعث نو افراد ہلاک ہوئے تھے اور نیپال اور چین کو ملانے والے ایک پل سمیت کئی اہم بنیادی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا تھا۔
کاٹھمنڈو واقع انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ (آئی سی آئی ایم او ڈی) کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس بار آنے والے سیلاب کے پیچھے گلیشیئر سے برف اور چٹانوں کے بڑے پیمانے پر سرکنے یا گرنے کا واقعہ ایک اہم وجہ ہو سکتا ہے۔
دریں اثنا، بدھ کو بھوٹیکوشی ندی کی معاون ندی لہینڈے کھولا میں سیلاب کی سب سے شدید صورتحال ریکارڈ کی گئی۔
آفات کے خطرات میں تخفیف کے ماہر سسوت سانیال کے مطابق، نیپال کی جانب واقع ایک گلیشیئر سے برف اور چٹانوں کا تودہ گرا، جس کے نتیجے میں ندی کا بہاؤ رک گیا۔ اس کے بعد جمع پانی اچانک نیچے کی طرف بہہ نکلا اور شدید سیلاب آ گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 14 ماہ کے اندر لہینڈے کھولا میں یہ دوسرا بڑا سیلاب ہے، جو تیزی سے گرم ہوتے ہوئے ہمالیائی خطے میں بروقت انتباہی نظام کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
ہندوستان سمیت کئی ممالک میں پھیلا ہوا ہمالیائی خطہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے ساتھ شدید بارش، ہیٹ ویو، سیلاب اور گلیشیئرز کے پگھلنے جیسے انتہائی موسمی واقعات زیادہ تواتر سے رونما ہو رہے ہیں اور ان کی شدت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
اس سال کی شروعات میں ہونے والی ایک تحقیق میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ ہندوکش ہمالیہ کے علاقے کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور سال 2000 کے بعد برف کے نقصان کی شرح دوگنی ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق، بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلی اس تبدیلی کی اہم وجوہات ہیں۔
Related
Categories: خاص خبر, خبریں, عالمی خبریں

