امریکی پابندیوں کے باوجود پاکستان ایران سے تجارت کا خواہاں، معاشی قیمت کیا ہو گی؟

398016 1916265044


پاکستان نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تجارت اور اقتصادی روابط جاری رکھنے کا خواہاں ہے، تاہم بین الاقوامی پابندیوں کے تناظر میں اپنی ذمہ داریوں کو بھی مدنظر رکھے گا۔

جمعرات کو یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئی اور سخت معاشی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے تہران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک اور کمپنیوں کو بھی نتائج سے خبردار کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان ایران پر عائد پابندیوں کا ذمہ دار نہیں اور اسلام آباد بین الاقوامی قانون اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرتا رہے گا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن یہاں کریں

ترجمان کے مطابق بعض معاملات میں پاکستان کو پابندیوں کے تناظر میں مخصوص اقدامات کرنا ہوں گے، تاہم ایران کے ساتھ مجموعی تعلقات اور تجارت بڑھانے کی پالیسی برقرار ہے۔

انہوں نے کہا، ’مجموعی طور پر پاکستان اور ایران کے تعلقات مضبوط ہیں اور اسلام آباد دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔‘

یہ سوال اس وقت اہم ہو گیا ہے جب ٹرمپ نے ایران کے خلاف جسے انہوں نے تاریخ کی ’سب سے کچل دینے والی معاشی کارروائی‘ قرار دیا، کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تہران امریکہ کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہا ہے۔

ٹرمپ نے ان ممالک اور کاروباری اداروں کو بھی معاشی نتائج کی دھمکی دی جو ایران کی مدد یا اس کے ساتھ کاروبار جاری رکھیں گے، جبکہ امریکی اتحادیوں سے تہران کو مزید تنہا کرنے کی کوششوں میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

امریکی اقدامات کے ممکنہ اثرات سے متعلق سوال پر طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان اصولی طور پر اقوام متحدہ کے فریم ورک سے باہر عائد یک طرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے۔

انہوں نے پاکستان کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے فریم ورک سے باہر عائد یک طرفہ پابندیوں کی مخالفت کی ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ ایسے اقدامات عموماً نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔‘

ترجمان کے مطابق پاکستان ایران کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات اور اقتصادی روابط کو جاری رکھے گا اور امید رکھتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان وسیع تر کشیدگی کا کوئی حل نکلے گا۔

انہوں نے کہا، ’پاکستان ایران کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات اور اقتصادی روابط کو سنجیدگی، لگن اور عزم کے ساتھ جاری رکھے گا۔ ہمیں امید ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے وسیع تر تصفیے کے تحت اقتصادی معاملات بھی آخرکار حل ہو جائیں گے۔‘

پاکستان ایران تجارت پر ممکنہ اثرات کیا ہوں گے؟

پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کا معاملہ دونوں ممالک کے لیے محض سفارتی نہیں بلکہ سرحدی معیشت کا بھی اہم مسئلہ ہے۔

بلوچستان چیمبر آف کامرس کے صدر محمد ایوب مریانی کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان موجودہ دوطرفہ تجارت تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر ہے، جس میں ایران سے درآمدات کا حجم تقریباً سوا دو ارب ڈالر جبکہ پاکستان کی برآمدات تقریباً ایک ارب 20 کروڑ ڈالر ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان ایران کو چاول، کینو، کیلا، جراحی آلات اور دیگر مصنوعات برآمد کرتا ہے، جبکہ ایران سے پٹرولیم مصنوعات سمیت تقریباً 150 مختلف اشیا درآمد کی جاتی ہیں۔

انہوں نے تجارت کی نوعیت بیان کرتے ہوئے کہا، ’ایران کے ساتھ ہمارا اکثر کاروبار سرحدی علاقوں کے ذریعے ہوتا ہے اور اس کا ایک بڑا حصہ غیر رسمی نوعیت کا ہے۔‘

پاکستان اور ایران نے گزشتہ برسوں میں دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم موجودہ تجارتی حجم اس ہدف سے خاصا کم ہے۔

محمد ایوب مریانی کے مطابق بینکاری ذرائع اور باضابطہ مالیاتی نظام کی محدود دستیابی دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے میں پہلے ہی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

انہوں نے کہا، ’قانونی طور پر ہمارے پاس ایران کے ساتھ مکمل بینکاری نظام موجود نہیں ہے اور تجارت کا بڑا حصہ بارڈر ٹریڈ سسٹم کے تحت ہو رہا ہے۔‘

ان کے مطابق امریکی دباؤ میں مزید اضافہ ہوا تو سرحدی تجارت بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات بلوچستان اور ایران سے متصل دیگر علاقوں کی مقامی معیشت پر پڑیں گے۔

انہوں نے سرحدی تجارت سے وابستہ روزگار کے حجم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’اگر پابندیوں کا اثر بارڈر ٹریڈ تک پہنچا تو موجودہ تجارت بھی متاثر ہوگی اور اس سے وابستہ لاکھوں لوگوں کا روزگار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔‘

تیل، بجلی اور سرحدی معیشت

پاکستان کی ایران کے ساتھ اقتصادی وابستگی صرف روایتی درآمدات اور برآمدات تک محدود نہیں۔

ایران پاکستان کو پٹرولیم مصنوعات فراہم کرتا ہے جبکہ سرحدی علاقوں میں ایرانی ایندھن کی غیر رسمی نقل و حرکت بھی طویل عرصے سے مقامی معیشت کا حصہ رہی ہے۔

محمد ایوب مریانی کے مطابق ایران میں سرحدی علاقوں کے لیے بعض صورتوں میں ایندھن پر سبسڈی دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے ایرانی سرحد کے قریب تیل کی قیمت نسبتاً کم رہتی ہے۔

انہوں نے کہا، ’سرحدی تجارت کے ذریعے پاکستانی علاقوں میں نسبتاً سستا ایندھن پہنچتا ہے، لیکن اگر پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع ہوا تو اس نظام پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔‘

پاکستان اور ایران کے درمیان بجلی کی فراہمی اور دیگر بڑے اقتصادی و رابطہ منصوبوں کا معاملہ بھی پابندیوں کے ماحول سے جڑا رہا ہے۔

رواں برس جون میں دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ بڑے اقتصادی اور رابطہ منصوبوں پر پیش رفت کا انحصار بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی کی رفتار پر ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل چھ اگست کو طاہر اندرابی نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان اور ایران کی سرحد کو تجارت کے لیے 24 گھنٹے کھلا رکھنے کا فیصلہ کسی بین الاقوامی پابندی کی خلاف ورزی نہیں اور دوطرفہ تجارت میں قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

’غیر رسمی تجارت بڑھ سکتی ہے‘

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس سے وابستہ ماہر معاشیات ڈاکٹر ناصر اقبال کے مطابق نئی امریکی پابندیوں یا ان پر سخت عمل درآمد کی صورت میں پاکستان اور ایران کے درمیان باضابطہ تجارت مزید دباؤ میں آ سکتی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کو ایک عرصے سے امید تھی کہ ایران پر پابندیوں میں نرمی کے بعد اقتصادی تعاون اور باضابطہ تجارت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، لیکن موجودہ صورتحال اس امکان کو مزید غیر یقینی بنا رہی ہے۔

ڈاکٹر ناصر اقبال نے کہا، ’بلوچستان سے لے کر کراچی تک ایرانی مصنوعات کے لیے پاکستان ایک اہم مارکیٹ ہے، لیکن پابندیوں میں سختی ہوئی تو غیر رسمی تجارت میں اضافہ ہو سکتا ہے اور اس سے مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھنے کا امکان ہے۔‘

ان کے مطابق اصل سوال اب یہ ہو گا کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے اعلان کو عملی طور پر کس حد تک نافذ کرتی ہے اور آیا ثانوی پابندیوں کا دائرہ پاکستان جیسے ایران کے ہمسایہ ممالک تک بھی وسیع کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا، ’آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو گا کہ امریکی انتظامیہ اس اعلان پر کس حد تک عمل کرتی ہے، لیکن یہ ضرور ہے کہ اگر پابندیوں پر سختی سے عمل درآمد ہوا تو پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت پر اثر پڑے گا۔‘





Source link

متعلقہ پوسٹ