پنجاب حکومت نے تقریباً دو دہائیوں بعد بسنت کے تہوار کی مشروط بحالی کا فیصلہ کرتے ہوئے پنجاب کائٹ فلائینگ آرڈیننس 2025 جاری کر دیا ہے۔ نئے قانون کے تحت پتنگ بازی کو محفوظ بنانے اور ماحولاتی و جانی نقصان سے بچاؤ کیلئے جامع ضابطے وضع کیے گئے ہیں۔
حکومت کی جانب سے جاری آرڈیننس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
پتنگ سازی اور فروخت کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔
ہر پتنگ پر QR کوڈ درج کرنا لازم ہوگا جس کے ذریعے پتنگ بنانے اور فروخت کرنے والے کی فوری شناخت ممکن ہوگی۔
18 سال سے کم عمر بچوں پر پتنگ اُڑانے پر پابندی عائد ہوگی، خلاف ورزی کی صورت میں والدین یا سرپرست ذمہ دار ہوں گے۔
سب سے پہلی خلاف ورزی پر 50 ہزار روپے جرمانہ جبکہ دوبارہ خلاف ورزی پر 1 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
پنجاب میں ہر جگہ پتنگ بازی ڈپٹی کمشنرز کی اجازت سے مشروط ہوگی۔
پتنگیں صرف رجسٹرڈ دکانداروں سے ہی خریدی جا سکیں گی، اور تمام دکاندار QR سسٹم سے منسلک ہوں گے۔
قانون کی سنگین خلاف ورزی پر 3 سے 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکومتی حلقوں کے مطابق نئے ضوابط کا مقصد بسنت کو محفوظ انداز میں بحال کرتے ہوئے انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

