مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث’بوسنیا کا قصاب‘ اقوام متحدہ کی حراست میں چل بسا

untitled 61787851115 0


بوسنیا کی جنگ کے دوران مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی کے جرم میں عمر قید کی سزا پانے والا سابق بوسنیائی سرب جنرل راتکو ملادیچ اقوام متحدہ کی حراست میں انتقال کرگیا۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق راتکو ملادیچ جمعرات کو دی ہیگ کے مضافات میں قائم اقوام متحدہ کے حراستی مرکز کے اسپتال وارڈ میں انتقال کرگیا۔

اس کے وکیل ڈریگن ایوٹیچ نے موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر وجہ نہیں بتائی۔ راتکو ملادیچ اپنی زندگی کے آخری چند ماہ سے شدید علالت کے باعث اسپتال وارڈ میں زیر علاج تھا۔

راتکو ملادیچ کو جولائی 1995 میں سربرنیتسا میں ہونے والے بدترین قتل عام کی منصوبہ بندی اور نگرانی کے باعث عالمی سطح پر ’بوسنیا کا قصاب‘ کہا جاتا تھا۔

سربرنیتسا کو اقوام متحدہ نے شہریوں کے تحفظ کے لیے ’محفوظ علاقہ‘ قرار دے رکھا تھا لیکن ملادیچ کی سرب قیادت میں افواج نے علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد ہزاروں مسلمان مردوں اور لڑکوں کو خواتین اور بچوں سے الگ کردیا۔

بعدازاں 8 ہزار سے زائد مسلمان مردوں اور لڑکوں کو قتل کردیا گیا۔ مقتولین کی لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا جبکہ شواہد چھپانے کے لیے بعض قبروں سے لاشیں نکال کر دوسرے دور دراز مقامات پر منتقل کی گئیں۔

سربرنیتسا قتل عام کو دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں ہونے والے بدترین مظالم میں شمار کیا جاتا ہے۔

بوسنیا کی 1992 سے 1995 تک جاری رہنے والی جنگ میں ملادیچ بوسنیائی سرب افواج کا سربراہ تھا۔ اس کی فوج نے بوسنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں، کروٹس اور دیگر غیر سرب آبادیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کی مہم چلائی جسے عالمی عدالت نے ’نسلی صفائی‘ قرار دیا۔

محصور دارالحکومت سراجیوو پر بھی سرب افواج نے طویل عرصے تک توپوں، ٹینکوں، مارٹروں اور بھاری مشین گنوں سے گولہ باری کی، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد مارے گئے۔

جنگ کے دوران قیدیوں کے ساتھ بدترین سلوک، بھوک، تشدد، جنسی زیادتی اور قتل سمیت متعدد جنگی جرائم کے واقعات بھی سامنے آئے۔

سربرنیتسا پر قبضے کے موقع پر راتکو ملادیچ نے کیمروں کے سامنے اپنی فوج کی پیش قدمی کو فتح قرار دیا تھا۔

اس موقع پر اس نے علاقے کو سرب عوام کے لیے ’تحفہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف انتقامی جذبات کا اظہار کیا۔

اس کے اگلے ہی دن سرب افواج نے بچوں کو مٹھائیاں تقسیم کرکے محفوظ راستے کی یقین دہانی کرائی جبکہ دوسری جانب ہزاروں مسلمان مردوں اور لڑکوں کو قتل کرنے کے لیے تیار کیا جارہا تھا۔

نیٹو کی جانب سے سرب افواج کو روکنے کے لیے فضائی کارروائی کی دھمکی دی گئی تو ملادیچ کی افواج نے اقوام متحدہ کے امن دستوں کے اہلکاروں کو بھی انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔

سابق سرب صدر سلووڈان میلوسووچ اور بوسنیائی سرب سیاسی رہنما رادووان کرادژچ بھی بوسنیا میں مسلمانوں اور دیگر غیر سرب آبادیوں کے خلاف مہم کے اہم کردار تھے۔

سابق یوگوسلاویہ کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل نے قرار دیا تھا کہ ملادیچ، میلوسووچ اور کرادژچ ایک ایسی مجرمانہ سازش کا حصہ تھے جس کا مقصد بوسنیا کے علاقوں سے غیر سرب آبادی کو زبردستی نکال کر گریٹر سربیا کے لیے زمین حاصل کرنا تھا۔

کرادژچ کو بھی 2016 میں نسل کشی اور جنگی جرائم کے مقدمات میں مجرم قرار دیا گیا تھا جبکہ میلوسووچ 2006 میں اپنے مقدمے کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی حراست میں انتقال کرگیا تھا۔

برسوں تک قانون کی گرفت سے باہر

جنگ کے خاتمے کے بعد بھی راتکو ملادیچ کئی برس تک گرفتار نہیں ہوسکا تھا۔ مغربی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود سربیا میں موجود قوم پرست حلقوں میں وہ ایک ہیرو سمجھا جاتا تھا اور طویل عرصے تک بلغراد میں روپوش زندگی گزارتا رہا۔

بالآخر2011 میں اسے گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتاری کے وقت وہ شدید بیمار اور جسمانی طور پر کمزور ہوچکا تھا جبکہ اس کا دایاں بازو بھی مبینہ طور پر فالج کے باعث متاثر تھا۔

عمر قید، آخری اپیل بھی مسترد

راتکو ملادیچ پر نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم سمیت متعدد الزامات عائد کیے گئے۔ 2017 میں اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تاہم اس نے عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دیا تھا۔

اس نے اپنی سزا کے خلاف اپیل کی، لیکن 2021 میں اپیل بھی مسترد کردی گئی۔ اس کے بعد اس نے خراب صحت کی بنیاد پر انسانی ہمدردی کے تحت رہائی کی متعدد درخواستیں بھی دیں، جو منظور نہ ہوسکیں۔

اگست 2026 میں اقوام متحدہ کے ایک ڈاکٹر نے بھی قرار دیا تھا کہ ملادیچ کی موت کسی بھی وقت واقع ہوسکتی ہے اور ممکنہ طور پر چند ہفتوں میں اس کی زندگی ختم ہوسکتی ہے، تاہم عدالت نے اسے اس بنیاد پر رہا کرنے سے انکار کردیا۔

واضح رہے کہ راتکو ملادیچ بوسنیا میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل کا ذمہ دار تھا جن میں 1995 کے سربرینیتسا قتل عام میں 8 ہزار سے زائد مسلمان مرد اور لڑکے شامل تھے جبکہ سرائیوو کے تقریباً چار سالہ محاصرے میں بھی 10 ہزار افراد جان سے گئے تھے۔

 





Source link

متعلقہ پوسٹ