جنگ بندی کے بعد سے تیزی سے کم ہوتی پیٹرول کی قیمتیں ایک بار پھر اڑان بھرنے لگیں، جب امریکا نے ایران پر مسلسل تین روز سے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 9 فیصد اضافہ ہوا تھا، جس میں آج مزید 5 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اس طرح آج برینٹ کروڈ آئل کی قیمت دن بھر 87.49 ڈالر فی بیرل تک ٹریڈ کرتی رہی، جو حالیہ ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان حملے اسی طرح جاری رہے تو برینٹ خام تیل 90 ڈالر یا اس سے بھی اوپر جا سکتا ہے، جبکہ 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا جا رہا۔
خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے دنیا بھر میں ایندھن، ٹرانسپورٹ اور بجلی کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی مہنگائی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس صورتحال سے امریکا، یورپ اور ایشیا کے مرکزی بینکوں کی شرح سود سے متعلق پالیسیوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
امریکا کے ایران پر فضائی حملے تیسرے روز بھی جاری رہے، جس کے جواب میں ایران نے اردن، مصر، کویت اور دیگر خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات اور مفادات کو نشانہ بنایا۔

