کراچی: رینجرز کیمپ حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار، سہولت کار نیٹ ورک بے نقاب

IMG 20260714 WA1916


کراچی (نمائندہ خصوصی) — گلستانِ جوہر میں رینجرز کیمپ پر ہونے والے حملے میں ملوث سہولت کاروں کے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا گیا ہے، جبکہ حملے کے ماسٹر مائنڈ قاری بشیر کو رینجرز نے گرفتار کر لیا ہے۔
وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کراچی میں آئی جی سندھ جاوید عالم، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک اور ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 27 جون کو سندھ رینجرز کی کراچی ٹرانسپورٹ کمپنی پر چار دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، جن میں سے تین کا تعلق افغانستان جبکہ ایک کا تعلق باجوڑ سے تھا، جو 20 برس افغانستان میں مقیم رہا۔
وزیرِ داخلہ کے مطابق تمام دہشت گردوں کے ہینڈلرز افغانستان سے انہیں ہدایات دے رہے تھے، اور ان کا مقصد لوگوں کو یرغمال بنا کر جانی نقصان پہنچانا تھا۔ تاہم سندھ رینجرز کے کامیاب آپریشن میں تین دہشت گرد ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا، اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا گیا۔
ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر نے بریفنگ میں بتایا کہ کارروائی کو چار مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: پہلے مرحلے میں افغانستان میں منصوبہ بندی ہوئی، دوسرے میں دہشت گردوں کو پاکستان پہنچایا گیا، تیسرے میں سہولت کار گروپ نے مدد فراہم کی، اور آخری مرحلے میں اسلحہ و خودکش جیکٹس مہیا کی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے خودکش حملہ آوروں میں جانان افغانی، باجوڑ کا ایک رہائشی، اور کنڑ افغانستان سے تعلق رکھنے والا عمر فاروق شامل تھے، جبکہ زندہ گرفتار ہونے والے چوتھے دہشت گرد کا تعلق صوبہ ننگرہار سے ہے۔
ایس ایس پی سی ٹی ڈی کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی میں نور ولی، شیر علی، سعید شاہ، جماعت الاحرار کے امیر بصیر عرف احرار اور دیگر ملوث ہیں۔ حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر ہے، جسے خصوصی طور پر پاکستان سے افغانستان بلا کر یہ ٹاسک سونپا گیا تھا۔ رینجرز نے کارروائی کے دوران قاری بشیر کو گرفتار کر لیا ہے، جس نے تفتیش کے دوران حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق تمام جرائم کا اعتراف کر لیا ہے۔

متعلقہ پوسٹ