کشمیر کے نئے منتخب وزیر اعظم افتخار گیلانی کون ہیں؟

398045 1099408365


پاکستان زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں نئے قائد ایوان کا انتخاب مکمل ہو گیا ہے اور مسلم لیگ ن کے بیرسٹر سید افتخار گیلانی 30 ووٹ حاصل کر کے خطے کے 17ویں وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں۔

ان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار احمد خان نے 14 ووٹ حاصل کیے۔

53 ارکان پر مشتمل قانون ساز اسمبلی میں اس وقت 46 ارکان موجود ہیں۔

پونچھ اور سدھنوتی اضلاع کی سات نشستوں پر سکیورٹی کی کشیدہ صورت حال کے باعث تاحال انتخابات نہیں ہو سکے۔

مسلم لیگ ن اس وقت اپنے اتحادیوں سمیت 32 ارکان کی حمایت رکھتی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کے اسمبلی میں 14 ارکان ہیں۔

قائد ایوان کے انتخاب میں باقی دو ووٹ کاسٹ نہیں ہوئے۔ سپیکر قانون ساز اسمبلی طارق فاروق نے اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا، جبکہ مسلم لیگ ن کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

عام انتخابات میں شکست کے بعد خصوصی نشست سے اسمبلی تک

بیرسٹر سید افتخار گیلانی نے دو اگست 2026 کو مرحلہ وار انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ایل اے 29، حلقہ تین مظفرآباد سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا۔

تاہم وہ پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار احمد خان سے شکست کھا گئے۔ مختار احمد خان نے 19 ہزار 792 ووٹ حاصل کیے، جبکہ افتخار گیلانی کو 16 ہزار 413 ووٹ ملے۔

عام انتخابات میں شکست کے بعد مسلم لیگ ن نے انہیں ٹیکنوکریٹ کی نشست پر اسمبلی میں لانے کا فیصلہ کیا۔

افتخار گیلانی نے خواتین کی پانچ مخصوص نشستوں، علما مشائخ، اوورسیز اور ٹیکنوکریٹ کی نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں حصہ لیا۔ وہ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر کامیاب ہو کر قانون ساز اسمبلی کا حصہ بن گئے۔

ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ایل اے 29، حلقہ تین سے عام انتخابات میں کامیاب اور شکست کھانے والے دونوں امیدوار قانون ساز اسمبلی کے رکن ہیں۔ بعد ازاں انہی دونوں کے درمیان قائد ایوان کا انتخاب بھی ہوا۔

سیاسی خاندان سے تعلق

بیرسٹر سید افتخار گیلانی کا تعلق مظفرآباد کے ایک معروف سیاسی خاندان سے ہے۔ وہ 27 جولائی 1980 کو پیدا ہوئے۔

ان کے والد سید آصف گیلانی مرحوم ایک کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے بانیان اور ابتدائی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔

افتخار گیلانی نے ابتدائی تعلیم اسلام آباد اور راولپنڈی سے حاصل کی، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن گئے۔

انہوں نے ویسٹ منسٹر یونیورسٹی لندن سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور بار ایٹ لا کیا۔ انہوں نے ایس او اے ایس، سکول آف ساؤتھ ایسٹ ایشین سٹڈیز سے کنفلکٹ سٹڈیز کی تعلیم بھی حاصل کی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ وطن واپس آئے اور تقریباً 10 سال تک اسلام آباد میں وکالت کے شعبے سے وابستہ رہے۔

سیاسی سفر

بیرسٹر افتخار گیلانی نے پہلی بار 2012 میں ایل اے 29، حلقہ تین کی خالی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔

اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور افتخار گیلانی کو پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس کے انتخابی اتحاد کا سامنا تھا۔

2016 کے عام انتخابات میں انہوں نے ایک بار پھر مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی اور دوسری مرتبہ رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے۔ انہوں نے اپنے مدِ مقابل خواجہ فاروق احمد کو واضح برتری سے شکست دی۔

اس کے بعد انہیں وزیر تعلیم بنایا گیا۔

بطور وزیر تعلیم انہوں نے محکمہ تعلیم میں متعدد اصلاحات متعارف کرائیں۔ ان کے دور میں نیشنل ٹیسٹنگ سروس (این ٹی ایس) کے ذریعے بھرتیوں کا نظام متعارف کرایا گیا۔

اس اقدام کا مقصد محکمہ تعلیم میں بھرتیوں کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو فروغ دینا تھا۔ اس کے علاوہ تعلیمی معیار بہتر بنانے اور اساتذہ کی اہلیت میں اضافے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے۔

افتخار گیلانی نے 2021 کے انتخابات میں تیسری مرتبہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر حصہ لیا، تاہم وہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار خواجہ فاروق احمد سے شکست کھا گئے۔

2026 کے حالیہ انتخابات میں انہوں نے چوتھی بار مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر حصہ لیا، لیکن ایک بار پھر سردار مختار احمد خان سے شکست کھائی۔

مسلم لیگ ن کا غیر متوقع فیصلہ

2026 کے مرحلہ وار انتخابات میں مسلم لیگ ن نے 31 نشستیں جیت کر کامیابی حاصل کی۔

اس کے بعد مسلم لیگ ن کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر وزارتِ عظمیٰ کے لیے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے تھے۔ میرپور ڈویژن سے منتخب رکن اسمبلی طارق فاروق اور ریٹائرڈ کرنل وقار نور کے نام بھی وزارتِ عظمیٰ کے لیے زیرِ غور تھے۔

تاہم مسلم لیگ ن نے ان سینئر سیاست دانوں کے بجائے ٹیکنوکریٹ کی نشست سے اسمبلی میں آنے والے بیرسٹر سید افتخار گیلانی کو وزیراعظم کے منصب کے لیے نامزد کیا۔

اس فیصلے پر شاہ غلام قادر نے سخت ردِعمل دیا اور آج قائدِ ایوان کے انتخاب کے لیے ہونے والے اسمبلی اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی۔

سیاسی حلقوں میں افتخار گیلانی کا وزیراعظم منتخب ہونا ایک بڑا اپ سیٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ تاریخ میں دوسری مرتبہ ہے کہ عام انتخابات میں شکست کھانے کے بعد خصوصی نشست سے قانون ساز اسمبلی کے رکن بننے والا کوئی شخص وزارتِ عظمیٰ کے منصب تک پہنچا ہے۔

اس سے قبل 1991 کی قانون ساز اسمبلی میں سردار عبدالقیوم خان عام انتخابات میں شکست کے بعد علما مشائخ کی نشست سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور بعد ازاں وزیراعظم بنے تھے۔

وزارتِ عظمیٰ کے انتخاب کی بدلتی روایت

پاکستان زیرِ انتظام کشمیر کی پارلیمانی سیاست میں ماضی میں عموماً وزارتِ عظمیٰ کے لیے اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کے صدر کو نامزد کیا جاتا رہا ہے۔

2021 میں پاکستان تحریک انصاف نے اس روایت کو توڑا۔ پارٹی صدر بیریسٹر سلطان محمود چوہدری کے بجائے عبدالقیوم نیازی کو وزیراعظم نامزد کیا گیا۔

اسی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد اور اندرونی اختلافات کے باعث پانچ سال کے دوران وزرائے اعظم کئی بار تبدیل ہوئے۔ سردار تنویر الیاس، چوہدری انوار الحق اور فیصل ممتاز راٹھور سمیت چار بار وزارتِ عظمیٰ میں تبدیلی ہوئی۔

اس اسمبلی کی آئینی مدت میں پیپلز پارٹی کی آخری حکومت کے دوران بھی پارٹی صدر کے بجائے جنرل سیکریٹری فیصل ممتاز راٹھور کو وزیراعظم نامزد کیا گیا۔

اب 2026 میں مسلم لیگ ن نے بھی پارٹی صدر شاہ غلام قادر کے بجائے عام انتخابات میں شکست کھانے والے سیکریٹری اطلاعات بیرسٹر سید افتخار گیلانی کو ٹیکنوکریٹ کی نشست سے اسمبلی میں لا کر وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار بنایا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ