مجھے توقع تھی کہ مجھے شان ہوچکس پسند نہیں آئیں گے۔ اس میں مکمل طور پر ان کا قصور نہیں۔ اس کی زیادہ تر ذمہ دار ان کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’خواتین سے نفرت‘ ہے، جو خود مصنف سے پہلے قاری تک پہنچتی ہے اور اپنے ساتھ زہریلی اور تلخ باتوں کا گمان لے آتی ہے۔
کتاب کا ذیلی عنوان ’مردانہ غصے اور بحالی کی داستان‘ بھی اس تاثر کو زیادہ کم نہیں کرتا۔ بظاہر یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ یہ موجودہ دور کی عورت دشمنی کی تاریک دنیا میں اترنے والی کہانی ہوگی، یعنی وہ دنیا جس میں ’انسلز‘ (وہ مرد جو غیر ارادی طور پر تنہا رہتے ہیں)، اینڈریو ٹیٹ جیسے مردانہ برتری کی بات کرنے والے انفلوئنسرز، اور ان کے پیدا کردہ زہریلے آن لائن کلچر شامل ہیں، جہاں عورتوں سے ناراضی اور نفرت کو ایک نظریے کی شکل دے دی گئی ہے۔
لیکن ہوچکس نے یہ کتاب نہیں لکھی۔ اس کی بجائے مجھے ایک کھلی اور دیانت دار، اور بعض اوقات بے آرام کر دینے والی یادداشت ملتی ہے، جو ایک ایسے زخمی نوجوان کی داستان ہے جس نے برسوں عورتوں سے توثیق اور قبولیت حاصل کرنے کی بے تاب کوشش کی جب کہ اسی وقت وہ ان کے ساتھ حقیقی قربت سے خوف زدہ بھی تھا۔ اب 40 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں داخل ہونے والے ہوچکس اپنی نشے کی لت، بے راہ روی، بے ایمانی، جذباتی استحصال اور کئی دوسرے زہریلے رویوں کا اعتراف کرتے ہیں، جن پر انہیں آج گہری شرمندگی ہے۔ لیکن جس چیز کو میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں اور نہیں پاتا، وہ نفرت ہے۔
آج وہ مردوں کے لیے کوچنگ کرتے ہیں، لیکن اس سے پہلے کئی برسوں تک امریکہ کے جرائد جی کیو، ایسکوائر اور مینز ہیلتھ کے لیے کام کرتے رہے۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ’خواتین سے نفرت‘ دراصل ان کا تجویز کردہ عنوان نہیں تھا۔ ان کے ایڈیٹر نے یہ عنوان تجویز کیا اور ان کا پہلا ردعمل شدید تھا۔ وہ کہتے ہیں: ’مجھے یاد ہے کہ میں نے تقریباً غصے بھرا مختصر سا احتجاج کیا تھا۔‘
بالآخر ہوچکس نے سوچا کہ شاید یہ بے چینی انہیں کسی اہم بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے، جس کے بعد انہیں عورتوں کے بارے میں اپنے اس غصے کا سامنا کرنا پڑا، جسے وہ مکمل طور پر تسلیم نہیں کرتے تھے۔ لیکن عنوان کے بارے میں تذبذب اب بھی باقی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے اس عنوان کے خلاف شدید مزاحمت محسوس ہوئی اور سچ کہوں تو کبھی کبھار اب بھی ہوتی ہے۔‘
یہ بات اہم ہے کیوں کہ ’خواتین سے نفرت‘ کی مرکزی کشمکش صرف لفظوں کا کھیل نہیں۔ ہوچکس کی زندگی پر ان کے والد کی موت نے گہرا اثر ڈالا، جنہوں نے اس وقت خودکشی کر لی تھی جب شان 22 برس کے تھے۔ درحقیقت مصنف سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے والد کو دو بار کھو چکے تھے۔ پہلی بار اس وقت جب ان کے والدین کی طلاق ہوئی جب وہ چار سال کے تھے اور دوسری بار والد کی خودکشی کے ذریعے۔ وہ کہتے ہیں: ’اس لمحے زندہ رہنے کے لیے مجھے صرف یہ ہی سمجھ آیا کہ میں کسی عورت کے پاس جاؤں تاکہ وہ میرا یہ درد دور کر دے۔‘
وہ بیان کرتے ہیں کہ خواتین کے ساتھ مسلسل مختصر تعلقات رفتہ رفتہ ایک بے حسی پیدا کرنے والی دوا بن گئے۔ وہ نوجوان تھے، کامیاب تھے، نیویارک میں رہتے تھے اور والد کی موت کے بعد مالی طور پر بھی آسودہ تھے۔ ہوچکس لکھتے ہیں کہ وہ ایک سے دوسرے تعلق کی طرف جاتے رہے لیکن حقیقی قربت سے بچتے رہے۔ ’میں ہر وقت مختلف خواتین کے ساتھ ہوتا تھا، لیکن کسی کے بھی قریب ہونے سے خوف زدہ رہتا تھا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
میرے نزدیک یہ ہی اس کتاب کا بنیادی پیغام ہے۔ خواتین سے نفرت نہیں بلکہ ان کی ضرورت محسوس کرنا۔ میں انہیں بتاتا ہوں کہ مجھے ان کی زندگی میں عورتوں پر انحصار، بے ایمانی، چھوڑ دیے جانے کا خوف اور عورتوں سے اپنی اہمیت کی تصدیق حاصل کرنے کی شدید خواہش تو نظر آئی، لیکن نفرت جیسی کوئی چیز بہت کم دکھائی دی۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ’اس کتاب میں اصل نفرت وہ نفرت ہے جو مجھے خود اپنے آپ سے تھی۔‘ بعد میں وہ اس سے بھی آگے بڑھتے ہیں: ’مجھے نہیں معلوم کہ میں نے واقعی کبھی خواتین سے نفرت کی بھی تھی یا نہیں۔ البتہ جب میں ان کے قریب ہوتا تھا تو میرے ساتھ جو کچھ ہوتا تھا، میں یقیناً اس سے نفرت کرتا تھا۔‘
ایک مقام پر شان کی ذاتی کہانی مردوں کے بارے میں ایک عمومی نظریے میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔ کتاب میں ’میں‘ سے ’ہم‘ کی جانب زبان کی تبدیلی اس متنازع منتقلی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ایک شخص کی زندگی کی مخصوص تفصیلات سے نکل کر مردوں کی جذباتی نشوونما، والد سے وابستہ زخموں، فحش مواد کے اثرات، کمزوری کے اظہار اور ان کے عورتوں کے ساتھ تعلقات بن جاتی ہے۔
ہوچکس کا کہنا ہے کہ 2019 میں جب انہوں نے مردوں کی کوچنگ شروع کی تو ان کا اعتماد اس لیے بڑھا کیوں کہ انہوں نے اپنے بہت سے کلائنٹس میں خود اپنی جھلک دیکھی۔ لیکن یہاں ایک واضح انتخاب کرنے کے تعصب کا مسئلہ موجود ہے۔ آخر وہ مرد جو کسی مرد کوچ کی خدمات لیتے ہیں یا علاج کی غرض سے ریٹریٹس میں شریک ہوتے ہیں، غالباً وہی ہوں گے جو پہلے سے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی زندگی میں کوئی ایسی چیز ہے جسے درست کرنے کی ضرورت ہے؟ وہ اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’ممکن ہے ایسا ہی ہو۔‘ اور وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ’دنیا میں بہت سے مرد‘ اپنے تعلقات میں بالکل ٹھیک زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ ہی اعتراف اور لچک رفتہ رفتہ اس شان ہوچکس کے تصور کو توڑ دیتی ہے جو میں نے ان کی کتاب کے اشتعال انگیز اور صاف لفظوں میں کہیں تو ناگوار عنوان کو دیکھ کر اپنے ذہن میں بنائی تھی۔ میں اب بھی ان کے اصرار کے باوجود اس بات سے مطمئن نہیں کہ تقریباً تمام مرد ایک ایسے زخم کے حامل ہوتے ہیں جسے وہ ’والد کا زخم‘ کہتے ہیں۔ ہوچکس کا اپنا زخم تو ان مردوں کے احساسات سے بالکل مختلف ہے جو شاید صرف اپنے والد کی خاموش مایوسی کا شکار رہے ہوں۔ ان کے والد خود یتیم تھے، والدین کی طلاق اس وقت ہوئی جب شان محض چار برس کے تھے، اور بعد میں ان کے والد نے اپنی جان لے لی۔ یہ ایک غیر معمولی اور گہرا صدمہ تھا۔
اس کے باوجود ہوچکس کا پختہ یقین ہے کہ زیادہ تر مرد اپنے والد سے زیادہ توجہ، تعلق یا جذباتی دستیابی کی خواہش دل میں رکھتے ہیں۔ شاید ایسا ہو، لیکن اس میں ایک خطرہ بھی ہے کہ ایک غیر معمولی طور پر صدمہ خیز بچپن کو پوری انسانیت کے نصف 50 فیصدی حصے کے لیے ایک نفسیاتی مثال میں تبدیل کر دیا جائے۔
انہوں نے تھراپی، مردوں کے گروپس، ریٹریٹس، کوچنگ، جسمانی احساسات پر مبنی علاج اور حتیٰ کہ پہاڑوں میں روحانی جستجو جیسے تجربات بھی کیے، اور اکثر انہیں بار بار آزمایا۔
کتاب کا یہ دعویٰ کہ یہ مردوں کے لیے بحالی کا ایک ’روڈ میپ‘ فراہم کرتی ہے، ظاہر کرتی ہے کہ یہ اسی مسئلے سے دوچار ہے۔ ہوچکس کا اپنا سفر غیر معمولی حد تک طویل اور پیچیدہ رہا۔ ان کی پہلی شدید ذہنی ٹوٹ پھوٹ جی کیو میگزین کے کامیاب دنوں سے پہلے ہوئی، جب والد کی خودکشی اور اس رشتے کے خاتمے نے انہیں توڑ دیا جسے وہ اپنی جذباتی حفاظت کا سہارا سمجھتے تھے۔ وہ بحالی کے لیے کیریبین میں واقع ایک مرکز گئے، جو مشہور موسیقار ایرک کلاپٹن کی ملکیت تھا، لیکن وہاں ان کی شراب اور منشیات کی لت سے نجات نے ایک اور انحصار کو بے نقاب کر دیا۔ ’عورتیں میرے لیے ایک نئے نشے میں بدل گئی تھیں۔‘
والد کے بچھڑنے کے غم کا حقیقی سامنا، ایسے والد کے غم کا جس سے وہ کبھی مدد نہیں مانگ سکے تھے، ایک طویل بحالی کا عمل ثابت ہوا۔ انہوں نے تھراپی، مردوں کے گروپس، ریٹریٹس، کوچنگ، جسمانی احساسات پر مبنی تھراپی (سومیٹک ورک) اور یہاں تک کہ پہاڑوں میں روحانی جستجو جیسے تجربات بھی کیے، اور اکثر انہیں بار بار آزمایا۔ ان کے اپنے الفاظ میں، وہ دراصل بحالی کے عمل ہی کے عادی ہو گئے تھے۔ وہ تسلیم کرتے ہیں: ’میرا بحالی کا سفر بھی اتنا ہی پُرجوش تھا جتنے میرے منشیات اور پارٹیوں والے دن تھے۔‘ بالآخر انہیں خود سے کہنا پڑا: ’ٹھیک ہے، اب بہت ہو گیا۔‘
یہ مزید کچھ تکلیف دہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ آج کل اس صنعت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جسے ہوچکس اور بہت سے دوسرے لوگ ’مردوں پر کام‘ (Men’s Work) قرار دیتے ہیں، ایسا ’کام‘ جس کی مالی استطاعت بہت سے مردوں کے پاس نہیں ہوتی۔ جب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا انہوں نے کبھی حساب لگایا کہ مالی اعتبار سے ان کی بحالی پر کتنا خرچ آیا، تو ہوچکس قابلِ تعریف اختصار سے جواب دیتے ہیں: ’نہیں، لیکن یہ بہت زیادہ ہے۔‘ اس وقت کوچنگ سے وقفہ لیے ہوئے ہوچکس بتاتے ہیں کہ ان کی فیس کبھی 300 ڈالر کی ایک ’ون آف کلیریٹی سیشن‘ سے شروع ہو کر 40 ہزار ڈالر سے بھی زیادہ مالیت کے ایک سالہ پیکج تک رہی ہے، جس میں بالمشافہ سیشنز بھی شامل ہوتے ہیں۔
تو پھر ان کا یہ ’روڈ میپ‘ اس شریکِ حیات، شوہر یا والد کو کیا پیش کرتا ہے جو طویل گھنٹے کام کرتا ہے، مکان کا قرضہ ادا اور بچوں کی پرورش کر رہا ہوتا ہے، جب کہ اس کے پاس اس دس سالہ تھراپی سفر کے لیے نہ وقت ہے نہ پیسہ جس پر ہوچکس خود روانہ ہوئے تھے؟
ہوچکس کے بچے نہیں ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ مردوں کے بہترین گروپس میں سے بعض میں شرکت کے لیے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ ساڑھے تین برس تک وہ ہر بدھ کی شام اپنے چھ دوستوں سے ملتے رہے۔ وہ ایک پارک میں بیٹھتے اور گفتگو کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: ’یہ صرف رفاقت اور بھائی چارے کا احساس تھا۔‘
شفایابی کی اصطلاحات اور اس سوال کو ایک طرف رکھ دیں کہ یہ تیزی سے بڑھتی ہوئی ویل بیئنگ انڈسٹری حقیقت میں مردوں کے لیے کیا کر رہی ہے، تو ایک سادہ حقیقت سامنے آتی ہے: مردوں کی تنہائی لازماً یہ معنی نہیں رکھتی کہ کوئی مرد جسمانی طور پر اکیلا ہو۔ مرد ایک ساتھ کھیل سکتے ہیں، ایک ساتھ بیٹھ کر مشروبات پی سکتے ہیں اور دوستوں کے بڑے گروہوں میں شامل ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں ایک دوسرے کی اندرونی کیفیت کے بارے میں بہت کم علم ہوتا ہے۔
ہوچکس کا اصرار ہے کہ مردوں میں ’ایسے تعلق کی بھوک موجود ہوتی ہے‘، لیکن اکثر وہ اس کے قریب ترین جس چیز تک پہنچتے ہیں، وہ ’کسی دوست کے ساتھ پب سے واپسی پر نشے کی حالت میں گلے ملنا‘ ہوسکتا ہے۔ مردوں کو دوسرے ایسے مردوں کی ضرورت ہوتی ہے جن سے وہ ایمان داری کے ساتھ بات کر سکیں۔ ان کے مطابق مردوں کے گروپ کا مقصد ایک اور سماجی کلب بنانا نہیں، بلکہ ایسی جگہ فراہم کرنا ہے جہاں مرد اپنے خوف، غم، ناکامی اور غیر یقینی کیفیت کا اعتراف کر سکیں، بجائے اس کے کہ وہ اپنی بیوی یا محبوبہ سے توقع رکھیں کہ وہ یہ بوجھ برداشت کریں۔ ہوچکس کے لیے ان کی بحالی کا سب سے اہم حصہ دوسرے مردوں کے ساتھ وقت گزارنا تھا، چاہے وہ ان کے ہم عمر ساتھی ہوں، عمر میں بڑے رہنما ہوں یا پھر وقت گزرنے کے ساتھ وہ نوجوان مرد جن کی رہنمائی وہ خود کر سکتے تھے۔
ان کے مطابق اتنی ہی اہم بات عورتوں کو اپنی زندگیوں اور زہریلے تعلقات کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے سننا بھی تھا۔ اکثر ان کا ردِعمل شرمندگی پر مبنی پہچان کا ہوتا تھا: ’میں نے یہ کیا تھا، میں نے یہ کیا تھا، میں نے یہ کیا تھا۔‘
ان کے نزدیک بحالی کا سب سے معنی خیز ثبوت یہ نہیں کہ کسی نے کتنی تھراپی کرائی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے قریبی تعلقات میں کیسا رویہ اختیار کرتا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں: ’آپ کا غصہ کیسا ہے؟ آپ کے غصے آنے کے محرکات اور حساس نکات کس نوعیت کے ہیں؟‘ دوسرے لفظوں میں، شفایابی کا پیمانہ بڑی انکشافاتی باتیں نہیں بلکہ صبر سے کام لینے کی صلاحیت ہے۔
اپنے سامنے آئینہ رکھنے اور خود احتسابی کی اس آمادگی میں بہت کچھ پسند کرنے کے قابل ہے۔ کم عمر ہوچکس عورتوں سے ایمان دار نہیں ہو سکتے تھے کیونکہ انہیں خوف تھا کہ وہ انہیں چھوڑ جائیں گی۔ وہ بتاتے ہیں کہ کتاب کا مسودہ ناشرین کے حوالے کرنے کے بعد انہوں نے اگلے چھ ماہ ’تقریباً مکمل تنہائی میں‘ گزارے۔
اس تنہائی کے دوران ہوچکس کو معلوم ہوا کہ وہ ’اکیلے رہ کر بھی خوش رہ سکتے ہیں‘، اور ان کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ اب وہ ’استحکام کے لیے عورتوں پر انحصار نہیں کرتے۔‘ اس وقت وہ ایک تعلق میں ہیں جو ان کے بقول ’ایک ہی وقت میں مختلف، شان دار اور خوف ناک محسوس ہوتا ہے۔‘
گفتگو کے اختتام پر میں ان سے پوچھتا ہوں کہ ایڈیٹر کی جانب سے نیا نام دیے جانے سے پہلے ان کی یادداشتوں کا عنوان کیا تھا؟ وہ جواب دیتے ہیں: ’ہارٹ آن دی رن (دوڑتا دل)۔‘ ان کے خیال میں یہ ’بروس سپرنگسٹین کے کسی گانے جیسا لگتا تھا۔‘ یقیناً یہ عنوان کم فروخت ہونے والا اور کم اشتعال انگیز تھا، لیکن کم از کم اس کے ساتھ ایسی کتاب کا سرورق ضرور بنتا جسے آپ اپنی زندگی کی کسی اہم خاتون کے پہلو میں بستر پر بیٹھ کر نسبتاً زیادہ اطمینان سے پڑھ سکتے۔
مجھے بھی لگتا ہے کہ یہ عنوان مصنف کی کہانی کی زیادہ درست عکاسی کرتا۔ ہوچکس اعتراف کرتے ہیں: ’میں ایک نرم دل انسان ہوں۔ میں ایک طویل عرصے سے اس درد سے بھاگ رہا تھا، اور یہ کتاب دراصل اس درد کا سامنا کرنے کی میری کوشش ہے۔‘
شان ہوچکس کی کتاب ’خواتین سے نفرت: مردانہ غصے اور بحالی کی یادداشت‘ (سائمن اینڈ شسٹر) نے 27 اگست کو شائع کی ہے۔


