نیپال: سرچ کیمروں کی مدد سے سرنگوں میں پھنسے 100 سے زائد کارکنان کی تلاش

398077 670295819


نیپال میں امدادی کارکن ان ہائیڈرو پاور منصوبوں کے کارکنوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ سیلابی ملبے سے بھر جانے والی سرنگوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

تاہم اتوار کو رات بھر ہونے والی شدید بارش اور دریاؤں میں پانی کی بڑھتی سطح نے ریسکیو کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا کی۔

نیپال کی حکومت کا کہنا ہے کہ 100 سے زیادہ کارکن اب بھی زندہ ہو سکتے ہیں اور متعدد سرنگوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اہم ریسکیو کارروائیاں تریشولی 3A  اور 3B  ہائیڈرو پاور منصوبوں پر مرکوز ہیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، بدھ کی صبح کیچڑ اور ملبے کی ایک بڑی لہر آنے کے بعد سے 933 ہائیڈرو پاور کارکن لاپتہ ہیں۔

تریشولی 3A  میں فوجی ریسکیو ٹیموں نے ڈرلز کی مدد سے ہفتے کی شام کیچڑ سے بھری سرنگ کے بالائی حصے میں راستہ بنایا اور اندر ہوا پہنچانے اور کیمرہ بھیجنے کا عمل شروع کیا۔

تاہم رات بھر ہونے والی بارش اور دریا کی بڑھتی ہوئی سطح نے اس مقام پر کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا کی۔

نیپالی فوج نے اتوار کی صبح کہا کہ ’تقریباً 2 بجے کے بعد ہونے والی شدید بارش کے باعث دریا میں پانی کی سطح بلند ہوگئی اور کھدائی کا علاقہ بھی پانی سے بھر گیا۔‘ ریسکیو کارروائیاں پانچویں روز میں داخل ہوگئی ہیں۔

قدرتی آفات سے متعلق دفتر کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں کارکنوں کو کیچڑ میں سے گزرتے اور سیلاب کے باعث وہاں جمع ہونے والی بڑی بڑی چٹانوں کے درمیان راستہ بناتے ہوئے دیکھا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیپال کے وزیرِاعظم کے دفتر نے کہا کہ ٹیموں کو ’مسلسل بارش اور مشکل حالات‘ کا سامنا ہے، تاہم انہوں نے رات بھر بغیر رکے کام کیا اور ’ممکنہ طور پر پھنسے ہوئے افراد کی تلاش اور انہیں بچانے کے لیے انتھک کوششیں جاری رکھیں۔‘

دفتر کے مطابق ریسکیو ٹیمیں جدید سرچ کیمروں اور خصوصی مانیٹرز کا استعمال کر رہی ہیں۔

امریکی جیولوجیکل سروے نے کہا کہ چین-نیپال سرحد پر ہونے والی یہ تباہی گلیشیئر کے ٹوٹنے کے باعث پیش آئی۔

انڈیا اور چین کی خصوصی ٹنل ریسکیو ٹیمیں بھی امدادی کارروائیوں میں شامل ہوگئی ہیں۔

نیپال کی ماہر پہاڑی ریسکیو ٹیمیں، جو دنیا کی بلند ترین چوٹیوں بشمول ماؤنٹ ایورسٹ پر کوہ پیماؤں کی مدد کے لیے استعمال ہوتی ہیں، ایک اور متاثرہ ہائیڈرو پاور منصوبے پر لاپتہ افراد کی تلاش میں بھی شامل ہو رہی ہیں۔

نیپال الیکٹریسٹی اتھارٹی نے کہا کہ 11 ہائیڈرو پاور سٹیشنز اور ایک سولر پاور سٹیشن نے کام کرنا بند کردیا ہے، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 431.1 میگاواٹ ہے۔

اتھارٹی کے مطابق یہ نیپال کی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت کا تقریباً 10 فیصد ہے۔

اس کے علاوہ زیرِ تعمیر 15 دیگر پاور منصوبے بھی متاثر ہوئے ہیں، جن کی مجموعی منصوبہ بندی شدہ پیداواری صلاحیت 470 میگاواٹ ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ