ہیگ: جنوبی افریقہ نے اسرائیل پر بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) کے تین قانونی طور پر پابند احکامات کی خلاف ورزی کا باضابطہ الزام عائد کیا ہے۔ محکمہ برائے بین الاقوامی تعلقات و تعاون کے مطابق پریٹوریا نے عالمی عدالت میں شواہد کی دستاویز جمع کرائی ہے۔
جنوبی افریقہ نے منگل کو دائر درخواست میں کہا کہ اسرائیل نے عدالتی احکامات کی تعمیل نہیں کی، اور واضح کیا کہ وہ نسل کشی کنونشن کی مکمل پابندی یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب راستے استعمال کرتا رہے گا۔ خبردار کیا گیا کہ عدالت کے حتمی فیصلے سے پہلے غزہ میں فلسطینیوں کے حقوق تباہ ہو سکتے ہیں، جو خود آئی سی جے کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
دستاویز کے مطابق اگست تک کم از کم ۷۳ ہزار ۷۰۴ فلسطینی ہلاک اور ایک لاکھ ۷۴ ہزار ۷۳۵ زخمی ہو چکے ہیں، جو کل فلسطینی آبادی کا ۱۰ فیصد سے زائد بنتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ نام نہاد جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیلی فوج اوسطاً روزانہ ایک فلسطینی بچے کو ہلاک کرتی رہی، جبکہ ۲۰۲۶ء میں فلسطینی خواتین میں اسقاطِ حمل کی شرح تین گنا سے زیادہ بڑھ گئی۔
جنوبی افریقہ نے الزام لگایا کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کو جبری طور پر حراست میں لیا اور جلاوطن کیا، جنہیں تشدد اور جنسی و صنفی بنیاد پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ میں مقامی صحافیوں کے قتل اور اقوام متحدہ کے تحقیقاتی اداروں کو غزہ میں داخلے سے روکنے کا الزام بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ جنوبی افریقہ نے دسمبر ۲۰۲۳ء میں آئی سی جے میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کا مقدمہ دائر کیا تھا، جس کے بعد جنوری، مارچ اور مئی ۲۰۲۴ء میں عدالت نے تین عبوری احکامات جاری کیے تھے۔

