واشنگٹن/اوٹاوا — امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری سفارتی و تجارتی کشیدگی کے دوران اب جغرافیائی نام کا تنازع بھی سامنے آ گیا ہے۔ گوگل نے امریکی حکومت کی ہدایت پر اپنی میپس سروس میں کینیڈا اور امریکہ کی سرحد پر واقع لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکہ‘‘ کر دیا ہے، جبکہ کینیڈا میں یہ جھیل بدستور اپنے تاریخی نام ’’لیک اونٹاریو‘‘ سے دکھائی دے گی۔
گوگل کے مطابق کمپنی سرکاری حکام کی جانب سے کی جانے والی جغرافیائی ناموں کی تبدیلیوں کے مطابق اپنی میپس سروس کو اپ ڈیٹ کرتی ہے، اسی بنا پر امریکی صارفین کو اب یہ جھیل ’’لیک امریکہ‘‘ کے نام سے نظر آئے گی۔ دونوں ممالک سے باہر کے صارفین کو جھیل کا نام ’’لیک اونٹاریو (لیک امریکہ)‘‘ کی صورت میں دکھایا جائے گا۔
یہ تبدیلی امریکی ادارے جغرافیائی ناموں کے انفارمیشن سسٹم (GNIS) کی جانب سے کی گئی باضابطہ نام کی تبدیلی کے بعد سامنے آئی، جس کے تحت صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دستخط شدہ حکم نامے کی رو سے تمام سرکاری اداروں کو ’’لیک امریکہ‘‘ کا نام استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ واضح رہے کہ جنوری 2025 میں بھی ٹرمپ انتظامیہ نے خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کرکے ’’گلف آف امریکہ‘‘ رکھا تھا۔
کینیڈا کی جانب سے اس اقدام پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے تاریخی نام کی شناخت برقرار رکھنے کے لیے نیا ’’لیک اونٹاریو‘‘ سائن بورڈ نصب کرایا، جبکہ وزیراعظم مارک کارنی نے بھی امریکی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اونٹاریو‘‘ نام کا تعلق شمالی امریکہ کی مقامی وینڈٹ قوم سے ہے۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا 8 ستمبر سے امریکی درآمدات پر 15 سے 50 فیصد تک جوابی محصولات عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آیا۔ اس سے قبل امریکہ نے 22 اگست کو کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد محصولات عائد کیے تھے۔

