نیپال سیلاب: اجتماعی تدفین کا سلسلہ جاری، ہلاکتیں ۹۰۳ تک پہنچ گئیں، ۴۲۴۷ افراد تاحال لاپتہ

nepal flood 2 d 1


کھٹمنڈو — نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد امدادی اور تلاشی ٹیموں کو دریائے تریشولی اور نراینی کے کناروں سے مسلسل لاشیں مل رہی ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھاریٹی کے مطابق اب تک ۹۰۳ افراد ہلاک، ۴۲۴۷ لاپتہ اور ۲۶۷ زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ۱۰۴۵۱ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
شدید گرمی اور نمی کے باعث بیشتر لاشیں تیزی سے گل سڑ رہی ہیں، جس کے پیشِ نظر حکام نے بیماریوں کے پھیلاؤ کے خدشے کے تحت نامعلوم لاشوں کی فوری اجتماعی تدفین شروع کر دی ہے۔ پولیس انسپکٹر انیل تھاپا کے مطابق چتوان میں اب تک ۲۷۲ ایسی لاشیں دفن کی جا چکی ہیں جن کی شناخت نہیں ہو سکی اور جنہیں لینے کوئی رشتہ دار بھی سامنے نہیں آیا۔ تلاشی ٹیمیں روزانہ تقریباً ۱۰ مزید لاشیں برآمد کر رہی ہیں۔
لاشیں رکھنے کے لیے چتوان میں محض دو مردہ گاڑیاں دستیاب ہیں جبکہ اسپتالوں کے مردہ خانوں میں بھی گنجائش محدود ہے، جس کے باعث تقریباً ڈیڑھ میٹر گہرے گڑھوں میں اجتماعی تدفین کی جا رہی ہے۔ حکام نے رشتہ داروں سے ڈی این اے نمونے دینے کی اپیل کی ہے تاکہ شناخت کا عمل تیز کیا جا سکے۔ وزیرِ خارجہ شیشیر خانال کے مطابق نیپال نے فرانزک صلاحیت بڑھانے کے لیے بین الاقوامی مدد بھی طلب کر لی ہے۔
دریں اثنا سیلاب کی پیشگی اطلاع نہ ملنے پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ کئی متاثرین کا کہنا ہے کہ بروقت خبردار کیا جاتا تو جانیں بچائی جا سکتی تھیں، تاہم پولیس کا موقف ہے کہ سیلاب سے ۱۵ منٹ قبل عوام کو خبردار کرکے انخلا کی ہدایت دی گئی تھی۔

متعلقہ پوسٹ