گزشتہ چند ہفتوں کے وقفے کے بعد امریکہ نے ایران پر نئے حملے کیے، جن کے جواب میں ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں واقع امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایران کو "شدید نقصان پہنچانے” کی دھمکی دی۔ اتوار کے روز امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ لارک پر ایرانی راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا، جس کا مقصد امریکہ کے مطابق تہران کو جہاز رانی کے راستے میں بارودی سرنگیں بچھانے سے روکنا تھا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ان حملوں میں تین افراد کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔
تہران نے پیر کے ابتدائی گھنٹوں میں اردن اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی۔ سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) نے اردن میں دو امریکی ایئر بیسز کو "شدید نقصان” پہنچانے کا دعویٰ کیا۔ ٹرمپ نے بتایا کہ ایک غیر خطرناک میزائل کے علاوہ امریکی افواج کو نشانہ بنانے والے تمام میزائل روک دیے گئے، جبکہ اردنی فوج نے 8 میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کی تصدیق کی۔ ایران نے متحدہ عرب امارات کے المنہاد ایئر بیس پر امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے اور ہرمز کے اوپر ایک امریکی ڈرون مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا، جسے ابوظہبی نے "بے بنیاد” قرار دے کر مسترد کر دیا۔ عمان کے قریب ایک آئل ٹینکر پر گولہ باری کی بھی اطلاع ملی۔
کشیدگی میں اضافے کے باوجود ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کرغیزستان میں ایک سربراہی اجلاس کے دوران مذاکرات کی اپیل کی اور کہا کہ جنگ جاری رکھنا کسی کے مفاد میں نہیں۔ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا کہ "امریکہ کو جون میں دستخط کردہ یادداشتِ مفاہمت کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں کی طرف واپس آنا چاہیے۔”
یورپی یونین پر "خود مختاری کا سودا کرلینے” کا الزام
یورپی یونین کی جانب سے امریکی پابندیوں کی حمایت پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یورپی یونین "اپنی خودمختاری امریکی جبر کے آگے سرینڈر کر رہی ہے۔” انہوں نے اس کا موازنہ 1996ء کے یورپی ‘بلاکنگ اسٹیچیوٹ’ سے کیا اور خبردار کیا کہ اس حمایت کے نتائج کی ذمہ داری یورپی ممالک پر عائد ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی ردعمل
بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے پزشکیان سے ملاقات میں ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور روس-ایران تجارتی تعلقات برقرار رکھنے کا عزم دہرایا۔ ایس سی او کے اعلامیے میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر "گہری تشویش” ظاہر کی گئی اور ایرانی سرزمین پر حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے اسرائیل پر امریکہ-ایران تنازع کا فائدہ اٹھا کر خطے بھر میں حملے کرنے کا الزام عائد کیا اور آبنائے ہرمز کے بحران کو حل کیے بغیر چھوڑنے کے خطرات سے خبردار کیا، جبکہ عمان اور پاکستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی جاری کوششوں کی توثیق بھی کی۔

