امریکہ: ۷۵؍ ممالک کے تارک وطن ویزا بحال، عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی پابندی ختم کی

usa visa d 1


واشنگٹن — امریکی عدالت کے ایک اہم فیصلے کے بعد ۷۵؍ ممالک کے شہریوں کے لیے تارک وطن ویزا جاری کرنے پر جنوری سے عائد پابندی ختم ہوگئی ہے، تاہم دنیا بھر میں ویزا انٹرویوز کی الگ عارضی معطلی بدستور برقرار ہے۔
امریکہ نے ۷۵؍ ممالک کے شہریوں کے لیے تارک وطن ویزا جاری کرنے کا عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ امریکی وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جنوری میں عائد پابندی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔ امریکی ڈسٹرکٹ جج جینیٹ ورگاس نے ۲۱؍ اگست کو اپنے فیصلے میں کہا کہ محکمہ خارجہ کی جانب سے محض قومیت کی بنیاد پر تارک وطن ویزا روکنے کی پالیسی قانونی اختیار سے تجاوز کرتی ہے۔ یہ مقدمہ تارکین وطن کے حقوق کی تنظیموں نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کے خلاف دائر کیا تھا، اور عدالت نے متعلقہ پالیسی کو ’’patently unlawful‘‘ (کھلے طور پر غیر قانونی) قرار دیا۔
یہ پابندی ۲۱؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو نافذ ہوئی تھی جس کے تحت ۷۵؍ ممالک کے شہریوں کے تارک وطن ویزوں کے اجرا کو روک دیا گیا تھا۔ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ اس اقدام کا مقصد ایسے تارکین وطن کی نشاندہی کرنا تھا جو امریکہ میں سرکاری مراعات پر انحصار کر سکتے ہیں۔ متاثرہ ممالک میں پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان، افغانستان، نائیجیریا، روس، ایران، عراق اور مصر سمیت دیگر ممالک شامل تھے۔

متعلقہ پوسٹ