افغانستان سے ’دراندازی‘ کی کوشش، 15 عسکریت پسند مارے گئے: پاکستانی فوج

398198 589038604


پاکستان کی فوج نے جمعرات کو کہا ہے کہ افغانستان سے دراندازی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے 15 عسکریت پسندوں کو مارا گیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق 31 اگست اور یکم ستمبر 2026 کی درمیانی شب، سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے ضلع میں پاکستان افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش کرنے والے عسکریت پسندوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی دستوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’36 گھنٹے تک جاری رہنے والی اس کارروائی کے دوران انتہائی درست اور مہارت‘ سے کی گئی کارروائی میں 15 عسکریت پسند مارے گئے۔

فوج کے مطابق علاقے میں کیے گئے کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن کے دوران مارے گئے عسکریت پسندوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستام افغان سرحد پر پیش آنے والا یہ واقعہ ایک بار پھر پاکستان کے اس مستقل مؤقف کی تائید کرتا ہے کہ افغان طالبان حکومت اپنی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد تنظیم کو سرحد پار دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال سے روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔‘

وزیراعظم شہباز شریف نے دراندازی کی کوشش کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک  سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک سکیورٹی فورسز کی انسداد دہشت گردی کی عزمِ استحکام  مہم پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان میں افغانستان کے سفیر سردار احمد شکیب نے رواں ہفتے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے بارے میں پرانے تصورات سے آگے بڑھنا ہو گا اور سکیورٹی خدشات سے نمٹنے کے لیے براہ راست بات چیت کا راستہ اپنانا ہوگا۔

سفیر شکیب کا کہنا تھا کہ افغانستان کے سیاسی، سکیورٹی اور معاشی معاملات پاکستان پر اثرانداز ہوتے ہیں، جس طرح پاکستان کے حالات افغانستان کو متاثر کرتے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین سے ممکنہ سکیورٹی خطرات پر ظاہر کیے جانے والے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے سفیر شکیب نے کہا کہ افغانستان ان خدشات کو مکمل طور پر سمجھتا ہے، تاہم ان کا مؤقف تھا کہ سکیورٹی سے متعلق الزامات مخصوص، واضح اور ٹھوس معلومات، شناخت شدہ افراد، مخصوص نیٹ ورکس اور مخصوص واقعات سے جڑے ہونے چاہئیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کا خواہاں نہیں، لیکن ساتھ ہی یہ مؤقف بھی دیا کہ پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ سفیر کے بقول اگر افغانستان سے مخصوص خدشات پر تعاون کی توقع کی جاتی ہے، تو افغانستان بھی اپنے سکیورٹی خدشات پر پاکستان سے براہ راست بات چیت چاہتا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ