
(ویب ڈیسک)اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایسا نیا عالمی نقشہ اپنانے کی قرارداد منظور کر لی ہے جس میں براعظموں اور ممالک کا حجم زیادہ درست انداز میں دکھایا جائے گا۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق افریقی ممالک اور بہاماس کی جانب سے اس نقشے کے لیے پیش کی گئی قرارداد کے حق میں 164 ممالک نے ووٹ دیا۔
1 ملک نے مخالفت کی جبکہ 6 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
یہ قرارداد ٹوگو کی قیادت میں پیش کی گئی مہم کا حصہ تھی جس کا مقصد صدیوں سے استعمال ہونے والے نقشے میں افریقہ کو اس کے حقیقی حجم کے مطابق دکھانا ہے۔
UN Votes To Adopt a New World Map To Better Reflect Africa’s True Size.
Here’s What Africa Actually Looks Like Compared To How It Has Traditionally Been Represented On Most World Maps. And Trust Me, Africa Is MUCH Bigger Than You Probably Think. pic.twitter.com/S1XhRs4Bcy
— Somto Okonkwo (@General_Somto) September 4, 2026
موجودہ نقشہ 16 ویں صدی میں فلیمش ماہرِ نقشہ سازی گیرارڈوس مرکیٹر نے تیار کیا تھا۔
اس نقشے میں قطبین کے قریب موجود علاقوں کا حجم حقیقت سے کہیں زیادہ بڑا دکھائی دیتا ہے۔
مثال کے طور پر گرین لینڈ اور افریقہ تقریباً ایک ہی حجم کے نظر آتے ہیں حالانکہ افریقہ گرین لینڈ سے تقریباً 14 گنا بڑا ہے۔
نقادوں کے مطابق اس نقشے میں یورپ اور دیگر مغربی علاقوں کو غیر متناسب طور پر نمایاں دکھایا جاتا ہے جس سے نو آبادیاتی دور کے تصورات اور مغربی برتری کا تاثر مضبوط ہوتا رہا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق نئے نقشے کے لیے ایکول ارتھ نقشہ اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جو براعظموں کے حقیقی رقبے کو زیادہ درست انداز میں ظاہر کرتا ہے۔
مزید پڑھیں:نائیجیریا میں پیٹرول چوری کے دوران 37 افراد ہلاک
یہ قرارداد قانونی طور پر پابند نہیں اور سمندری و فضائی رہنمائی کے لیے مرکیٹر نقشے کے استعمال کو چیلنج نہیں کرتی کیونکہ ان مقاصد کے لیے یہ اب بھی موزوں سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ واحد ملک ہے جس نے قرارداد کی مخالفت کی ہے۔
امریکی مؤقف کے مطابق یہ اقدام ایک نظریاتی ایجنڈے کو فروغ دیتا ہے اور عالمی امن، خوش حالی اور بین الاقوامی تعلقات جیسے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹاتا ہے۔
ٹوگو کے وزیرِ خارجہ رابرٹ ڈوسی نے کہا ہے کہ منصفانہ دنیا کا آغاز منصفانہ نقشے سے ہوتا ہے۔
فرانس جو قرارداد کا شریک سرپرست تھا، پہلے ہی مرکیٹر نقشے کو ترک کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔
فرانسیسی وزیرِ خارجہ یاں نوئل بارو کے مطابق نئے نقشے زیادہ درست رقبے کی عکاسی کریں گے۔
مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اب اصل کام شروع ہو گا اور درست نقشے سکولوں، نصابی کُتب، میڈیا، کاروباری اداروں اور دنیا بھر میں پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔
ٹوگو نے عالمی تنظیموں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی نئے نقشے کے استعمال پر آمادہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
افریقی مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ مقصد افریقہ کو بڑا دکھانا نہیں بلکہ اسے درست حجم کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔

