ایرانی تیل بردار جہازوں پر امریکی حملے، تہران نے ’جنگی جرم‘ قرار دے دیا
‘امریکی کارروائیاں ایران کے خلاف جاری فوجی دباؤ، بحری ناکا بندی اور معاشی جنگ کا حصہ ہیں’
تہران: ایران کی وزارت خارجہ نے ایرانی تیل بردار بحری جہازوں پر مبینہ امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں جارحیت اور جنگی جرم قرار دے دیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی کارروائیاں ایران کے خلاف جاری فوجی دباؤ، بحری ناکا بندی اور معاشی جنگ کا حصہ ہیں۔ تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ بحری جہازوں پر حملوں سے بین الاقوامی تجارت اور شپنگ کی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ہیں، ایران اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
بیانیۀ وزارت امور خارجه در محکومیت حملات غیرقانونی آمريکا علیه شناورهای ایرانی pic.twitter.com/rTkpRFR0Hm
— خبرگزاری فارس (@FarsNews_Agency) September 5, 2026
ایران نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں فوجی کارروائیوں، بحری ناکا بندی اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے ممکنہ نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اس کے اتحادیوں پر عائد ہوگی۔
ایرانی وزارت خارجہ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیج اور آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

