امریکہ کے حمایت یافتہ بورڈ آف پیس کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے پیر کو خبردار کیا کہ غزہ میں پیش رفت نہ ہونے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد کے باعث دو ریاستی حل ’ناممکن‘ ہوتا جا رہا ہے۔
’بورڈ آف پیس‘ کے تحت غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نکولے ملاڈینوف نے یہ بات ابوظہبی میں ہِلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
بورڈ کو اکتوبر میں ہونے والے جنگ بندی منصوبے پر عمل درآمد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
ملاڈینوف نے کہا ’میں یہ کہوں گا کہ اگر غزہ میں صورت حال اسی طرح جاری رہتی ہے یا جامع منصوبے کے تحت ہمارے پاس موجود منصوبے پر عمل درآمد کی جانب پیش رفت نہیں ہوتی تو دو ریاستی حل عملی طور پر ناممکن ہو جائے گا۔‘
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
انہوں نے مزید کہا ’مغربی کنارے میں جو کچھ ہو رہا ہے اور اس وقت غزہ کے 50 فیصد سے زیادہ علاقے پر اسرائیلی فوج کا کنٹرول جبکہ 50 فیصد سے کم علاقے پر حماس کا کنٹرول ہونے کے باعث، تنازعے کے سیاسی حل کی جانب آگے بڑھنے کا کوئی قابلِ اعتبار راستہ موجود نہیں۔‘
30 جولائی کو حماس کی جانب سے منظور کیے گئے ایک روڈ میپ کے مطابق ہتھیاروں کو ناکارہ بنانے کے عمل کی نگرانی بین الاقوامی استحکام فورس کرے گی۔
یہ ایک نئی تشکیل پانے والی فورس ہے جس کا مقصد صورت حال پُرسکون ہونے کی صورت میں غزہ میں تعینات ہونا ہے۔ اس فورس کی قیادت امریکی میجر جنرل جیسپر جیفرز کر رہے ہیں۔
حماس نے اپنے ہتھیار ایک نئی فلسطینی حکومتی اتھارٹی کے حوالے کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ اس انتظام پر اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔
غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس علاقے میں، جہاں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی آباد ہیں، پانچ لاکھ سے زیادہ اسرائیلی غیر قانونی بستیوں میں رہتے ہیں۔
ملاڈینوف نے کہا ’اس صورت حال کو دوبارہ اس مقام تک پہنچانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہمارے پاس عبوری حکمرانی ہو، ہتھیاروں کو ناکارہ بنایا جائے اور غزہ سے انخلا کیا جائے۔‘
اتوار کو ٹرمپ کے داماد اور نمائندے جیرڈ کشنر نے کیئف میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ اسرائیل میں ہونے والے آئندہ انتخابات غزہ کے معاملے پر اسرائیلی رہنماؤں کو ’کچھ غیر معقول‘ بنا رہے ہیں۔
کشنر نے اسرائیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’ہم آخری نتیجے کے حوالے سے ان سے متفق ہیں۔ ان کے ہاں بس ایک عجیب و غریب انتخاب ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے بعض معاملات میں وہ کچھ غیر معقول ہو جاتے ہیں لیکن ہم پرعزم ہیں اور ان معاملات پر کام کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا ’اگر وہاں بندوقیں موجود ہوں تو آپ آگے نہیں بڑھ سکتے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ہم غزہ کی عسکریت پسندی کے حجم کو سمجھنا شروع کر رہے ہیں۔ یہ آپ کے تصور سے بھی کہیں زیادہ ہے، لہٰذا اسے غیر عسکری بنانا آسان نہیں ہوگا۔‘

