یوپی سے ہر مسلم کو نشاندہی کرکے نکالیں گے: وزیراعلیٰ اترپردیش

IMG 20260406 WA2202


اب اتر پردیش میں کوئی سڑکوں پر نماز نہیں پڑھ سکتا اور نہ ہی کسی عبادت گاہ سے بلند آواز کی اجازت ہوگی: یوگی آدتیہ ناتھ
بی جے پی آسام کو مسلم دراندازوں سے پاک کرسکتی ہے، ہر مسلم کو نشاندہی کرکے نکالا جائے گا
گوہاٹی/لکھنؤ: اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے آسام میں انتخابی ریلی کے دوران متنازع بیانات دیتے ہوئے شدید بحث چھیڑ دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) آسام کو “مسلم دراندازوں” سے پاک کر سکتی ہے اور خطے کے ہر مسلمان کی نشاندہی کرکے اسے نکالا جائے گا۔ یوگی آدتیہ ناتھ کا دعویٰ تھا کہ صرف بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت ہی آسام کی ثقافتی شناخت اور آبادیاتی توازن کو بچا سکتی ہے اور “لون جیہاد” و “لینڈ جیہاد” جیسے مسائل کا حل نکال سکتی ہے۔
اسی خطاب میں انہوں نے اتر پردیش کے حوالے سے سخت اقدامات کا اعلان کیا اور کہا کہ اب اتر پردیش میں کوئی شخص سڑکوں پر نماز ادا نہیں کر سکے گا۔ اس کے علاوہ کسی بھی عبادت گاہ سے بلند آواز میں اذان یا دیگر مذہبی تقریر کی اجازت نہیں ہوگی۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ “سڑکیں چلنے اور ٹریفک کے لیے ہیں، مذہبی اجتماعات کے لیے نہیں”۔ انہوں نے مہا کمبھ کے منظم انعقاد کا حوالہ دیتے ہوئے لوگوں سے “مذہبی نظم و ضبط” سیکھنے کی اپیل کی۔
ان بیانات پر اپوزیشن جماعتوں اور اقلیتوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین نے انہیں اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے بی جے پی پر انتخابات کے لیے اینٹی مسلم ریٹورک استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات مذہبی ہم آہنگی، اقلیتوں کے حقوق اور بھارت کی سیکولر شناخت کے لیے خطرہ ہیں۔
یوگی حکومت نے پہلے بھی اتر پردیش میں مساجد اور مندروں دونوں سے لاؤڈ اسپیکرز پر پابندیاں لگائی ہیں اور سڑکوں پر نماز پڑھنے کے خلاف کارروائی کی ہے، جو عوامی نظم و ضبط اور سپریم کورٹ کی گائیڈ لائنز پر مبنی بتائی جاتی ہے۔
حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قانون کی حکمرانی اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
یہ بیانات آسام اسمبلی انتخابات سے قبل سامنے آئے ہیں جہاں دراندازی اور شناخت کے مسائل انتہائی حساس ہیں۔ سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید بحث جاری ہے اور الیکشن کمیشن کی طرف سے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

متعلقہ پوسٹ