جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ گزشتہ 80 سال سے ملک جس تنزلی کا شکار ہوا ہے، اس کی ذمے داری مفاداتی سیاست پر عائد ہوتی ہے جس پر اپنا محاسبہ کیا جائے۔ مولانا ایک زیرک سیاستدان ہیں جو چالیس سال سے زائد عرصہ سے سیاست کر رہے ہیں وہ خود حکومتی ایوانوں کا حصہ رہے انھوں نے حکومتوں کے خلاف اپوزیشن رہنما کا موثر کردار ادا کیا۔
جنرل پرویز مشرف دور میں ان کی پارٹی ایم ایم اے کی صوبہ خیبر میں حکومت رہی اور انھوں نے (ق) لیگ کی حکومت میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا کردار بھی ادا کیا تھا ۔ جنرل پرویز مشرف نے 2007 میں جب صدارتی ریفرنڈم کرایا تو بعض سیاستدانوں کی جانب سے ایم ایم اے کی صوبائی حکومت توڑنے کے مشورے سامنے آئے تاکہ جنرل پرویز کا دوبارہ صدر بننے کا منصوبہ ناکام ہوجائے مگر جے یو آئی نے ایسا نہیں کیا تھا ،اس کا اپنا ایک مختلف سیاسی نقطہ نظر تھا، مگر جماعت اسلامی سرحد اسمبلی سے مستعفی ہو گئی تھی اگر جماعت اسلامی کی بات مانی جاتی تو ممکن ہے کہ سرحد اسمبلی ختم کر دینے سے صدارتی ریفرنڈم نہ ہوتا۔ بہرحال یہ دونوں مذہبی و سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے تھا۔
مولانا بے نظیر حکومت میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔ پی ٹی آئی حکومت کے خلاف انھوں نے اسلام آباد تک لانگ مارچ بھی کیا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان کو آئینی طور پر ہٹانے کے بعد شہباز شریف وزیر اعظم بنے تو انھوں نے مولانا کے صاحبزادے سمیت جے یو آئی کو چار وزارتیں دی تھیں جب کہ جے یو آئی کی قومی اسمبلی میں نشستیں ایم کیو ایم سے کم تھیں اور پیپلز پارٹی نے وزارت خارجہ سمیت متعدد وزارتیں لی تھیں جب کہ اس کابینہ میں پیپلز پارٹی کے سب سے زیادہ مشیر اور معاونین خصوصی تھے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سربراہی بھی پی پی کے پاس تھی۔
جنرل پرویز نے 2002 میں (ق) لیگ کی حکومت بنوائی تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے کافی ارکان اسمبلی اپنی پارٹیوں سے ٹوٹ کر جنرل پرویز سے جا ملے تھے مگر مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا فضل الرحمن اور اے این پی نے اپوزیشن کا کردار ادا کیا تھا جب کہ ایم کیو ایم جنرل پرویز مشرف کے اقتدار تک ان کے ساتھ رہی۔ ایم کیو ایم واحد پارٹی ہے جو پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، پی ٹی آئی حکومتوں کی ضرورت اور ان کی ہر حکومت میں شامل رہی۔ پی ڈی ایم حکومت میں بھی ایم کیو ایم کے دو وزیر تھے۔
2008ء میں جب (ن) لیگ پی پی حکومت سے علیحدہ ہوئی تو اس وقت کے صدر مملکت آصف زرداری نے (ن) لیگ کی جگہ ایم کیو ایم اور (ق) لیگ کو اپنی حکومت میں شامل کر لیا تھا اور اے این پی بھی پی پی کی اتحادی تھی جس کے وزیر ریلوے غلام احمد بلور کے دور میں پاکستان ریلوے تباہ ہو گئی تھی اور پیپلز پارٹی کے وزیر بجلی راجہ پرویز اشرف دور میں پورا ملک اندھیروں میں ڈوب گیا تھا مگر پی پی حکومت تماشا دیکھتی رہی تھی جنھیں یوسف رضا گیلانی کی سپریم کورٹ سے نااہلی پر وزیر اعظم بنایا گیا تھا۔
(ن) لیگ کے بعد (ق) لیگ اور ایم کیو ایم کی پی پی کو ضرورت تھی تو انھیں حکومت میں شامل کیا گیا اور ملک میں پہلی بار (ق) لیگ کے چوہدری پرویز الٰہی نائب وزیر اعظم بنائے گئے تھے جب کہ پی پی پہلے ق لیگ کی مخالف پارٹی تھی اور پی پی کو سندھ میں اکثریت حاصل تھی جس کی وجہ سے پہلے ایم کیو ایم کو نظرانداز کیا گیا مگر ضرورت پڑنے پر پی پی حکومت میں شامل کر لیا گیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن وزیر اعظم بے نظیر بھٹو حکومت کے قریب رہے مگر مولانا 2008 میں پی پی حکومت میں شامل نہیں کیے گئے تھے مگر پی ٹی آئی حکومت میں مولانا پی پی کے قریب آ گئے اور پی پی، پی ڈی ایم میں شامل رہی جس کے سربراہ مولانا فضل الرحمن تھے مگر 2024 کے الیکشن میں مولانا کے ن لیگ اور پی پی سے سیاسی فاصلے پیدا ہوئے۔
پی ٹی آئی بھی مفاد پرستی کی سیاست میں نمایاں رہی ہے۔ مولانا نے ماضی میں بہت سمجھ داری سے سیاست کی اور دوسری جماعتوں اور بالاتروں کے خلاف کبھی سخت زبان استعمال نہیں کی بلکہ جب بھی بیان دیا بہت سوچ سمجھ کر اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے دیا۔ اس بار پی پی اور (ن) لیگ نے انھیں اپنی ساتھ شریک نہیں کیا جس پر مولانا نے ڈھائی سال صبر کیا اور آئینی ترامیم میں پی ٹی آئی کی مخالفت کے باوجود حکومت کا ساتھ بھی دیا مگر ان کی قدر نہیں کی گئی۔ بلوچستان میں جے یو آئی، (ن) لیگ اور پی پی کی نشستوں میں تھوڑا ہی فرق تھا اور جے یو آئی کے ساتھ ماضی کی طرح اتحادی حکومت بنائی جا سکتی تھی مگر پی پی نے وہاں سرفراز بگٹی کو اپنا وزیر اعلیٰ بنا لیا تھا۔
سیاسی مفاد کی سیاست جی بی اور آزاد کشمیر میں بھی دہرائی گئی جہاں پی پی نے (ن) لیگ کو اعتماد میں لے کر اپنا وزیر اعلیٰ مگر (ن) لیگ نے پی پی کو ناراض کرکے آزاد کشمیر میں (ن) لیگی وزیر اعظم منتخب کرا لیا مگر وفاق کے برعکس دونوں ہی پارٹیوں نے ایک دوسرے کو وہاں اقتدار میں شریک نہیں کیا۔ سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے بھی اپنی اکثریت کے باعث ایک دوسرے کو شریک اقتدار نہیں کیا ۔پاکستان کی سیاست 80 سال میں مفاد پرستی سے بھری پڑی ہے اور سب پارٹیاں اس کی ذمے دار ہیں۔
موجودہ حکومت کے غلط فیصلوں سے بانی پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ سیاسی فائدہ پہنچا ہے اور تین سالہ قید نے انھیں پی ٹی آئی حلقوں میں مظلوم بنا دیا ہے جو وسیع قید خانہ میں ورزش اور خوراک سمیت دیگر حکومتی سہولتوں کے باوجود پی ٹی آئی کے بقول تنہائی کا شکار ہیں۔ جیل تو جیل ہوتی ہے جو شریف فیملی اور بے نظیر اور آصف زرداری نے بھی بھگتی ہے اور پی ٹی آئی حکومت میں سختیوں کے باوجود یہ سب بانی کی طرح مظلوم نہیں بن سکے تھے جب کہ آصف زرداری سب سے زیادہ مسلسل قید میں رہے تھے۔دنیا بھر میں سیاست مفاد پرستی کے گرد گھومتی ہے ،ہر سیاستدان چاہے وہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں اپنے سیاسی مفادات کا خیال رکھتا ہے۔

