نریندر مودی حکومت کے بے باک ناقد اور ریٹائرڈ سابق بیوروکریٹ آشیش جوشی نے بتایا کہ دہلی پولیس نے کئی دنوں تک ان کے خلاف درج معاملے کی ایف آئی آر کی کاپی دینے سے انکار کرنے کے بعد عدالت میں شنوائی سے ایک دن پہلے انہیں مذکورہ ایف آئی آر کی کاپی دستیاب کرائی۔ یہ ایف آئی آر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ان کے تبصروں کے سلسلے میں درج کی گئی ہے۔
آشیش جوشی۔ (فائل فوٹو: Twitter/@acjoshi)
نئی دہلی: ریٹائرڈ سابق بیوروکریٹ آشیش جوشی نے بتایا کہ دہلی پولیس نے کئی دنوں تک ایف آئی آر کی کاپی دینے سے انکار کرنے کے بعد عدالت میں شنوائی سے ایک دن پہلے سوموار (7 ستمبر) کو انہیں اس ایف آئی آر کی کاپی دستیاب کرائی، جو چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف ان کے تبصروں کے سلسلے میں درج کی گئی ہے۔
تاہم بتایا جا رہا ہے کہ ایف آئی آر میں جوشی کی اس ایکس پوسٹ کا ذکر ہے جس میں انہوں نے مغربی بنگال میں ایس آئی آرکے دوران پیش آنے والے غیر معمولی واقعات کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ’نیورمبرگ اسٹائل ٹرائل‘کا مطالبہ کیا تھا۔
تاہم، سابق بیوروکریٹ نے دی وائر کو بتایا کہ پولیس کی پوچھ گچھ کا فوکس اس کے بجائے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزارت داخلہ کے ہوم سکریٹری گووند موہن کے بارے میں ان کی ایک پوسٹ پر تھا۔
جوشی نے سوموارکی شام ایکس پر لکھا کہ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے انہیں ایف آئی آر کی کاپی دستیاب کرا دی ہے۔ انہوں نے کہا، ’اب میں قانون کے مطابق اپنے قانونی اختیارات کا استعمال کروں گا۔‘
اس کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد انہوں نے 28 اگست کی اس پوسٹ کا ذکر کیا جس میں انہوں نے گیانیش کمار کی تنقید کی تھی۔ جوشی نے اپنی اس پوسٹ میں لکھا، ’ایف آئی آر اسی ٹوئٹ پر مبنی ہے۔ جانکاری کے لیے‘!
اس پوسٹ میں انہوں نے بنگال میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ گیانیش کمار ’نیورمبرگ اسٹائل کے مقدمے‘ سے بچ نہیں سکتے۔
FIR is based on this Tweet .
FYI! https://t.co/U9jt8fGHIw— Ashish Joshi (@bismil_prasad) September 7, 2026
لائیو لا کے مطابق، نئی دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں دائر عرضی میں جوشی نے شکایت کی تھی کہ 2 ستمبر کو پوچھ گچھ کے دوران بار بار مانگے جانے کے باوجود پولیس نے انہیں ایف آئی آر کی کاپی نہیں دی۔ اگلے دن ان کی جانب سے پیش کیے گئے اعتراضات اور درخواستوں کا بھی پولیس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
جوشی نے کہا کہ ایف آئی آر کی کاپی نہ دیے جانے کے باعث وہ ’اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی صحیح نوعیت معلوم کرنے سے قاصر‘ رہے اور اس سے قانونی راحت حاصل کرنے کے ان کے حق کی ’براہ راست خلاف ورزی‘ ہوئی۔
لائیو لا نے بتایا کہ سابق نوکر شاہ نے دلیل دی کہ ان کےخلاف درج ایف آئی آر کی کاپی پانے کا ان کا حق آئین کے آرٹیکل 21 سے حاصل ہوتا ہے، جو زندگی اور شخصی آزادی کے حق سے متعلق ہے، اور یہ پولیس کی مرضی کا معاملہ نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق، جسٹس مردل شرما کی جانب سے ان کی درخواست پر منگل کو سماعت کیے جانے کا امکان تھا۔
اس سے قبل، جوشی کے ایک دوست نے دی وائر کو بتایا تھا کہ دہلی کے نہرو پارک سے انہیں حراست میں لینے والے سادہ لباس میں موجود پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ چلنے کو کہتے ہوئے ’وزیر داخلہ کے خلاف‘ ان کی ایکس پوسٹ کا حوالہ دیا تھا۔
بعد میں جوشی نے بتایا کہ نیو فرینڈز کالونی میں واقع اسپیشل سیل کے احاطے میں ان سے پوچھے گئے سوالوں اور اس کے بعد کی پوچھ گچھ میں بھی اسی پوسٹ پر مرکوز کی گئی تھی۔ اس پوسٹ میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ راجدھانی میں نوجوان مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کے معاملے پر امت شاہ اور گووند موہن کے درمیان ’بڑا ٹکراؤ‘ ہوا تھا۔
یہ پوسٹ ہندوستان میں دستیاب نہیں ہے، کیونکہ ایکس نے ’قانونی مطالبے‘کی وجہ سے ہندوستانی صارفین کے لیے اسے روک دیا ہے۔
جوشی نے یہ بھی بتایا کہ انہیں 2 ستمبر کو اطلاع دی گئی تھی کہ ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں بی این ایس کی دفعہ 192 لگائی گئی ہے۔ یہ دفعہ دنگا کرانے کے ارادے سے جان بوجھ کر اشتعال دلانے کی کارروائی سے متعلق ہے۔
نریندر مودی حکومت کے بے باک ناقد رہے جوشی نے 1992 میں انڈین پوسٹ اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن اکاؤنٹس اینڈ فنانس سروس جوائن کی تھی۔ وہ 31 مارچ 2026 کو مرکزی حکومت میں ایڈیشنل سکریٹری کی سطح کے افسر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔

