سابق تیز بولر وسیم اکرم نے پاکستانی حکام سے اپیل کی ہے کہ سابق کپتان اور وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ’منصفانہ سلوک‘ کیا جائے۔
73 سالہ عمران خان 2023 سے جیل میں ہیں۔ گذشتہ سال کے اواخر میں انہیں اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو کرپشن کے ایک مقدمے میں 17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم دونوں ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز لنچ کے وقفے میں سکائی سپورٹس نے انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن کا عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان کے ساتھ انٹرویو نشر کیا تھا۔
انٹرویو میں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی حکام کی جانب سے اپنے والد کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر سخت تنقید کی تھی۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
بعض رپورٹس کے مطابق اس انٹرویو کی نشریات پر پاکستان کرکٹ بورڈ اس قدر ناراض ہوا کہ اس نے میچ کے دوران کھانے کے وقفے کے بعد پاکستان ٹیم کو میدان میں اتارنے سے انکار پر بھی غور کیا۔
تاہم ایسا کوئی بائیکاٹ نہیں ہوا اور میچ معمول کے مطابق جاری رہا۔
اس سے قبل اگست میں ایتھرٹن سمیت 21 سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے پاکستانی حکام سے عمران خان کے ساتھ انسانی بنیادوں پر اور ’بنیادی انسانی احترام‘ کے تقاضوں کے مطابق سلوک کرنے کی اپیل کی تھی۔
اس اپیل پر دستخط کرنے والوں میں انڈیا کے سابق کپتان سنیل گواسکر اور کپل دیو بھی شامل تھے۔
عمران خان کی قیادت میں 1992 کا ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے اہم رکن وسیم اکرم نے سابق انگلش کپتان ایان بوتھم کے ساتھ پیش کیے جانے والے پوڈکاسٹ ’اولڈ بوائز، نیو بالز‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ’ہم ان تمام کپتانوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے حال ہی میں عمران کے لیے درخواست پر دستخط کیے۔‘
انہوں نے کہا ’مجھے اپنے کپتان کی فکر ہے، میں انہیں ایک دوست کے طور پر یاد کرتا ہوں، ایک سرپرست کے طور پر ان کی کمی محسوس کرتا ہوں اور ایک قائد کی حیثیت سے بھی انہیں یاد کرتا ہوں۔ ہم نے تین سال سے ان کی تصویر تک نہیں دیکھی۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وسیم اکرم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے ساتھ بھی وہی منصفانہ سلوک کیا جائے جو ماضی میں دیگر سیاست دانوں کے ساتھ روا رکھا گیا۔
’ہم اس حکومت سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے، جیسا کہ اس سے پہلے دیگر سیاست دانوں کے ساتھ کیا جاتا رہا ہے۔‘
انہوں نے امید ظاہر کی کہ عمران خان جلد رہا ہوجائیں گے۔ ’امید قائم ہے، ان شاء اللہ پوری قوم ان کے ساتھ ہے اور وہ جلد باہر ہوں گے۔‘
کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان نے سیاست کا رخ کیا اور 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیر اعظم رہے۔
انہیں اپنی حکومت اور ملک کے طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے دوران تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اپریل 2022 میں وزارتِ عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا تھا۔
اس کے بعد عمران خان کو کرپشن اور دیگر الزامات کے تحت متعدد مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ ان کے خلاف قائم کیے گئے مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں۔
عمران خان کی گرفتاری کے بعد مئی 2023 میں ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ ان میں سے بعض مظاہروں نے پرتشدد شکل اختیار کی، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا۔

