تہران / واشنگٹن / بیجنگ: ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری فوجی اور سفارتی تنازع نے عالمی سیاست کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایران میں قیادت کی تبدیلی کے بعد چین، روس، آذربائیجان، عراق اور عمان نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی حمایت کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس اعلان نے واضح کر دیا ہے کہ دنیا ایک بار پھر دو واضح بلاکوں میں تقسیم ہو رہی ہے۔
ادھر یورپی یونین کمیشن کی صدر کے ایران مخالف بیان نے سفارتی تنازع کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ یورپی یونین کے اس موقف کو تہران نے سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ امریکی اور اسرائیلی ایجنڈے کا آلہ کار بن گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب روس اور چین پہلے ہی تہران کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کر چکے ہیں، جو مغربی اتحاد اور مشرقی بلاک کے درمیان گہری ہوتی خلیج کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکہ کے اندرونی محاذ پر بھی صورتحال کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ ایران کے خلاف جنگ اب امریکی داخلی سیاست کا ایک اہم اور حساس موضوع بن گئی ہے۔ ریپبلکن قیادت کو سنگین خدشہ ہے کہ ایران جنگ کے اثرات آنے والے وسط مدتی انتخابات پر پڑ سکتے ہیں۔ ڈیموکریٹس پہلے ہی اس جنگ کو ٹرمپ کی سیاسی غلطی قرار دے کر انتخابی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر چکے ہیں۔

