ایران کا الزام: ٹرمپ نے ایرانی خاتون فٹبال کھلاڑیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے

Australia grants asylum to Irans women footballers


تہران / کوالالمپور: اسلامی جمہوریہ ایران کی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی خاتون فٹبال کھلاڑیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو سڈنی سے کوالالمپور آنا تھا لیکن ایئرپورٹ گیٹ سے باہر نکلنے کی کوشش کے دوران انہیں روک لیا گیا۔
مہدی تاج نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشت گرد امریکی صدر یا تو ہماری معصوم لڑکیوں کو سکول میں قتل کرتا ہے یا اب کی طرح ہماری خاتون فٹبال کھلاڑیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ کھلاڑیوں کو کس ملک کے حکام نے روکا اور اس میں امریکا کا کردار کیا ہے۔ نہ ہی واشنگٹن کی جانب سے ان الزامات پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے آیا ہے۔ فیفا اور ایشین فٹبال کنفیڈریشن نے بھی ابھی تک اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مہدی تاج کے اہم بیانات:
"ٹرمپ نے ہماری خاتون فٹبال کھلاڑیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے”
"کھلاڑیوں کو سڈنی سے کوالالمپور آنا تھا لیکن ایئرپورٹ پر روک لیا گیا”
"امریکی صدر معصوم ایرانی لڑکیوں کو نشانہ بنا رہا ہے”
ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے پس منظر میں اس واقعے نے تنازعے کو ایک نئی جہت دے دی ہے۔ کھیلوں کی دنیا میں اس واقعے کو انتہائی سنگین نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور مختلف ممالک کی اسپورٹس تنظیمیں صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ