اسرائیلی موساد کے لیے جاسوسی کرنے والا بھارتی شہری بحرین میں گرفتار

IMG 20260310 WA1766


مَنامہ: بحرین کی انٹیلی جنس ایجنسی نے ایک بھارتی شہری کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو حساس معلومات فراہم کر رہا تھا۔ گرفتار شخص کی شناخت نتن موہن کے نام سے ہوئی ہے جو پیشے کے اعتبار سے ٹیلی کمیونیکیشن انجینئر ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزم نے بحرین کے اہم اور اسٹریٹجک مقامات کی حساس جغرافیائی معلومات، تصاویر اور ویڈیوز موساد کو فراہم کیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ معلومات غیر ملکی انٹیلی جنس کے لیے اہداف کے تعین اور تجزیے میں مددگار ثابت ہو سکتی تھیں، جو بحرین کی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تھا۔
بحرین کی وزارت داخلہ نے گرفتاری کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ تاہم جاری تفتیش اور تکنیکی پہلوؤں کے پیش نظر مزید تفصیلات ابھی عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔ ذرائع کے مطابق ملزم کافی عرصے سے بحرین میں مقیم تھا اور اپنے پیشہ ورانہ کردار کی آڑ میں یہ سرگرمیاں انجام دیتا رہا۔
ملزم کا نام — نتن موہن، بھارتی شہری
پیشہ — ٹیلی کمیونیکیشن انجینئر
الزام — موساد کو حساس مقامات کی تصاویر، ویڈیوز اور جغرافیائی معلومات فراہم کرنا
گرفتاری — بحرین انٹیلی جنس ایجنسی نے کی
تصدیق — بحرین وزارت داخلہ نے تصدیق کر دی
یہ گرفتاری ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب خطے میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور خلیجی ممالک اپنی قومی سلامتی کے معاملات میں انتہائی حساس ہو گئے ہیں۔ بحرین میں پہلے بھی غیر ملکی جاسوسی کے مقدمات سامنے آ چکے ہیں تاہم کسی بھارتی شہری کا موساد کے لیے کام کرنا ایک غیر معمولی اور چونکا دینے والی پیش رفت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو انٹیلی جنس ایجنسیاں ترجیحی طور پر نشانہ بناتی ہیں کیونکہ ان کی رسائی حساس نیٹ ورکس اور مواصلاتی نظام تک ہوتی ہے۔

متعلقہ پوسٹ