غزہ سے ملبہ ہٹانے کی اسرائیلی مہم: نسل کشی کے ثبوت مٹانے کی کوشش، اقوام متحدہ اور حماس کا الزام

geno 080926 d


غزہ: اقوام متحدہ کے ایک ماہر اور حماس نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے ملبہ ہٹانے، کچلنے اور منتقل کرنے کی بڑے پیمانے پر مہم مظالم اور نسل کشی کے شواہد کو مٹا سکتی ہے۔
فرانسیسکا البانیز، جو ۱۹۶۷ء سے اسرائیلی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر ہیں، نے کہا کہ غزہ کا ملبہ انسانی باقیات اور طبعی شواہد پر مشتمل ہے جو بین الاقوامی جرائم، بشمول نسل کشی، کی تحقیقات کے لیے اہم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شواہد کو تباہ کرنا غیر قانونی ہے اور اس میں ملوث ریاستیں و کمپنیاں بین الاقوامی مجرمانہ ذمہ داری کی پابند ہو سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف نے جنوری ۲۰۲۴ء میں اسرائیل کو شواہد کے تحفظ کا حکم دیا تھا، مگر اسرائیل نے اکتوبر ۲۰۲۵ء کی نام نہاد جنگ بندی کے بعد بھی کیٹرپلر، ایچ ڈی ہنڈائی، ڈوسان اور وولوو کی بھاری مشینری استعمال کرتے ہوئے مسماری اور ملبہ ہٹانے کا سلسلہ جاری رکھا۔
فلسطینی حکام کے مطابق ۱۰ ہزار سے زائد افراد ابھی تک ملبے تلے دبے ہیں۔ ۴ اگست ۲۰۲۶ء کو ایک خاندان کے ۱۱۲ افراد کی لاشیں ۱۷ روزہ مہم کے دوران برآمد ہوئیں، جبکہ اسی حملے میں مارے گئے ۴۱ دیگر افراد کی باقیات تاحال نہیں ملیں۔
حماس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ ملبہ ہٹا کر نسل کشی کے شواہد چھپانے کی کوشش کر رہا ہے، اور بین الاقوامی تفتیش کاروں و فورنسک ماہرین کو لاشیں برآمد کرنے اور شواہد کے تحفظ کے لیے بلانے کا مطالبہ کیا۔ حماس کا کہنا ہے کہ ایسی جگہوں سے چھیڑ چھاڑ کرنا بین الاقوامی قانون اور عدالت انصاف کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔
یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر کے مطابق تقریباً ۱۰ ملین ٹن ملبہ اب تک ہٹایا یا کچلا جا چکا ہے، اور روزانہ ۱۰۰ ٹرک ملبہ غزہ سے باہر منتقل کیا جا رہا ہے۔ البانیز نے زور دیا کہ ملبہ ہٹانے کا عمل فلسطینیوں کے تیار کردہ منصوبے اور قابل اعتماد نگرانی کے تحت ہونا چاہیے، اور تعمیر نو کو انصاف کے لیے درکار شواہد مٹانے سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق غزہ کا ۷۰ فیصد حصہ اسرائیلی پابندیوں کے تحت ہے، اور اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک ۹۲ فیصد رہائشی اکائیاں تباہ یا نقصان زدہ ہو چکی ہیں۔

متعلقہ پوسٹ