برلن: جرمنی کے شہر گیلسن کرشن میں واقع تُغرا مسجد کو ۶ ستمبر کو اسلام مخالف اور انتہائی دائیں بازو کے نعروں اور علامتوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ مسجد کی دیواروں پر متنازع جملوں کے ساتھ ساتھ سفید فام نسل پرستوں اور نو نازی گروہوں سے منسلک کوڈز بھی تحریر کیے گئے۔ مسجد انتظامیہ نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکام کو مطلع کر دیا ہے، جو تحقیقات کر رہے ہیں۔ ترک مسلمانوں کی یہ مسجد ۲۰۲۰ء میں بھی اسی نوعیت کے حملے کا نشانہ بن چکی ہے۔
جرمن حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۶ء کے پہلے چھ ماہ میں ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف ۲۳۱ جرائم درج کیے گئے، جن میں نو مساجد پر حملے شامل ہیں۔
یہ واقعہ یورپ میں حالیہ حملوں کے تسلسل میں پیش آیا۔ ۴ ستمبر کو بلجیم کے شہر اینٹورپ میں توفیق مسجد پر بھی حملہ کیا گیا، جہاں سواستیکا کے نشانات اور نفرت انگیز پیغامات درج کیے گئے، جبکہ داخلی دروازے کے باہر کتوں کا فضلہ بھی پھینکا گیا۔
یہ واقعات یورپ میں بڑھتی ہوئی دائیں بازو کی انتہاپسندی اور مسلم مخالف جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔

