پاکستان نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس نے مقامی سطح پر بنائی گئی مسافر بردار سلیپر بسوں کے ملک کے تمام موٹرویز پر چلنے پر پابندی عائد کر دی ہے اور اس فیصلے کا اطلاق ہو چکا ہے۔
اس حوالے سے تمام کمپنیوں کو پہلا مراسلہ رواں سال جون میں جاری کیا گیا تھا کہ مقامی سطح پر گاڑی میں کسی قسم کی تبدیلی خلافِ قانون ہے اور جتنی سلیپر بسیں ہیں، ان کو اپنی اصل حالت میں بحال کیا جائے۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق: ’بسوں کی تبدیلی سے گاڑی کی ڈائنامکس، آگ بجھانے کا انتظام اور ایمرجنسی ایگزٹ کا راستہ نہیں ہوتا، جو مسافروں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔‘
جون میں جاری اس مراسلے میں تمام کمپنیوں کو ایک ماہ کا وقت دیا گیا تھا کہ اس دوران وہ ان بسوں کو اپنی اصلی حالت میں بحال کریں یا ان بسوں کو اپنی بیڑے سے نکال دیں۔
اس کے بعد موٹروے پولیس کی جانب سے کمپنیوں کو مزید وقت دیا گیا تھا، لیکن چار ستمبر کو حکام کی جانب سے باقاعدہ طور پر سلیپر بسوں کے موٹروے پر داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
پابندی کی وجہ کیا ہے؟
پاکستان میں بعض کمپنیوں کی جانب سے بس کی ساخت میں تبدیلی کر کے نچلے حصے میں، جہاں سامان رکھا جاتا ہے، سلیپرز بنائے گئے ہیں جہاں مسافر سفر کے دوران سو سکتے ہیں۔
اسی تبدیلی کی وجہ سے موٹروے پولیس نے اس پر پابندی عائد کی ہے کیونکہ یہ موٹروے قوانین کے خلاف ہے۔
موٹروے آرڈیننس 2000 کی شق نمبر 28 کے مطابق کسی بھی گاڑی کی ساخت میں تبدیلی کے 14 دن بعد متعلقہ دفتر میں درخواست جمع کرنا ہوگی، تاکہ اس تبدیلی کا اندراج گاڑی کے کاغذات میں کیا جا سکے۔
تاہم آرڈیننس کے مطابق اگر حکام یہ سمجھیں کہ گاڑی کی اس تبدیلی سے مسافروں کی حفاظت یقینی نہیں بنائی جا سکتی تو اس صورت میں تبدیلی کی درخواست رد ہو سکتی ہے اور گاڑی کو فٹنس سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کیا جائے گا۔
موٹروے پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے انڈپینڈنٹ اردو کو سلیپر بسوں کے موٹروے پر داخلے کے حوالے سے بتایا کہ پابندی کا اطلاق چار ستمبر سے ہو چکا ہے اور کسی بھی سلیپر بس کو موٹروے پر داخلے کی اجازت نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا، ’اگر کسی سلیپر بس نے داخلے کی کوشش کی تو ان کو آرڈیننس کے قوانین کے تحت چالان کیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ مسافروں کی حفاظت کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔‘
بس کمپنیاں کیا کہتی ہیں؟
شیر ولی مردان سے کراچی چلنے والی سلیپر بس کے منیجر ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ موٹروے حکام کی جانب سے موٹروے پر سلیپر بسیں چلانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
تاہم انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اب ہم نے جی ٹی روڈ پر سروس شروع کی ہے کیونکہ جی ٹی روڈ پر پابندی کے حوالے سے ہمیں نہیں بتایا گیا ہے۔‘
شیر ولی نے بتایا، ’ہمیں پابندی کی درست وجہ تو معلوم نہیں، لیکن یہی کہا جا رہا ہے کہ بین الاقوامی معیار کی کمپنی سے بنائی گئی سلیپر بسیں ہونی چاہئیں اور یہاں پر بس کی ساخت میں تبدیلی نہیں ہونی چاہیے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
محمد انور کا تعلق بونیر سے ہے اور انہوں نے سوات سے کراچی تک مقامی کمپنی کی سلیپر بس میں سفر کیا ہے۔ ان کے مطابق روایتی سیٹوں سے سلیپر بس بہت آرام دہ ہوتی ہے، لیکن حکام کی جانب سے اگر اس میں حفاظتی معیار کا مسئلہ ہے تو کمپنیوں کو چاہیے کہ بین الاقوامی معیار کی بسیں درآمد کریں۔
انہوں نے بتایا، ’کراچی سے سوات تک سلیپر بس کا کرایہ نارمل بس کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، لیکن آرام دہ سفر ہوتا ہے اور مسافر آرام سے بس میں سو بھی سکتے ہیں۔‘
سلیپر بسوں پر موٹروے پر پابندی کے حوالے سے اسلام آباد موٹروے حکام سے موقف کے لیے رابطہ کیا گیا، لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔
پشاور میں شاہین سلیپر بس سروس کے مینیجر تیمور نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہم نے ایک سلیپر بس چار سے پانچ کروڑ میں خریدی ہے اور اس کے بعد 80 لاکھ تک ان بسوں کو سلیپر بنانے پر لگے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا، ’اتنا خرچہ ہم نے کیا ہے اور اب ہمیں بتایا گیا کہ بسیں بند ہو گئی ہیں، جس سے روزانہ ہمیں لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔‘
تیمور نے بتایا کہ اگر حکومت کو ان بسوں کی کسی چیز پر اعتراض ہے تو ہم ان کے ساتھ بیٹھ کر یہ مسئلہ حل کر سکتے ہیں، لیکن ایسے ہی یک طرفہ فیصلہ کر کے بسوں کو بند نہیں کرنا چاہیے۔

